ملفوظات (جلد 7) — Page 212
کے انبیاء علیہم السلام اپنے نفس کو بالکل بھلا دیتے ہیں اور وہ خدا تعالیٰ ہی کی عزت اور عظمت کے بھوکے پیاسے ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کے اظہار کے لیے وہ ہر قسم کی ذلت کے برداشت کرنے کو طیار ہوجاتے ہیں وہ تمام دکھوں اور مصیبتوں کو برداشت کرتے ہیں مگر ذرا بھی پروا نہیں کرتے۔ان کی ساری خواہشیں اور آرزوئیں اس ایک بات پر آکر ختم ہوجاتی ہیں کہ کسی طرح پر اہل دنیا خدا تعالیٰ پر ایمان لاویں۔انہیں سخت تکلیف پہنچتی ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ مشرک اور خدا سے دور لوگ اپنے بتوں اور معبودوں کی ایسی تعریف کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی ہونی چاہیے۔ایسا ہی وہ اس کو بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ لوگ ہر قسم کے فسق و فجور اور بد اعمالیوں میں مبتلا ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف سے منہ موڑیں۔ایسی صورت میں ان کے دل پر قلق اور کرب کا استیلاء ہوتا ہے۔پس جب ان کے دکھوں اور تکالیف کا اندازہ حد سے گذر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ پھر گوارا نہیں کرتا کہ وہ اس طرح پر دکھ اٹھائیں۔اس لیے وہ کرامت یا نشان ظاہر کرتا ہے۔یہ بھی یاد رکھو کہ راستباز دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو انبیاء و رسل۔یہ تو اعلیٰ درجہ کے راستباز اور مقدس وجود ہیں۔دوسری قسم کے وہ راستباز ہیں جو عام مومن ہوتے ہیں۔لیکن ان میں کچھ نہ کچھ بقایا نفس بھی موجود ہوتا ہے۔ان دوسرے درجہ کے لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ کچھ نہ کچھ خوارق کا حصہ دے دیتا ہے لیکن بڑے نشانوں کے مستحق وہی قوم انبیاء و رسل کی ہے جو کسی صورت میں بھی خدا تعالیٰ کے غیر کا جلال نہیں دیکھ سکتے۔ان کی مصیبت اور دکھ اس لیے ہوتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے خلاف نہ دیکھ سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں۔میرا ایمان یہی ہے کہ نوح علیہ السلام کا طوفان جو آیا اس طوفان سے پہلے ایک طوفان خود نوح پر بھی آیا۔تب وہ طوفان آیا جس نے لوگوں کو غرق کیا۔اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں فرعون غرق ہوا مگر اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام نے ایک سخت مصیبت دیکھی جو لوگوں کی نظر سے مستور تھی مگر وہ ایسی مصیبت تھی کہ اسے ان کا ہی دل برداشت کر سکتا تھا۔اور ایسی بھاری مصیبت تھی جس نے یہ نمونہ غرق دکھایا۔نوح علیہ السلام کا غم خیال کرو کہاں تک پہنچا ہوگا جو خدا تعالیٰ کا غضب اس طرح پر بھڑکا۔