ملفوظات (جلد 7) — Page 187
طرح ادا کرتے ہیں۔جب بہت سے عیسائی اور یہودی مسلمان ہوئے تو کچھ پرانے خیالات کا بقیہ ساتھ لائے۔وہی خیالات مسلمانوں میں منتقل ہو کر اور احادیث کی غلط فہمی بھی ساتھ مل کر یہ فاسد عقیدہ پیدا ہوگیا اور کتابوں میں درج ہوگیا۔ورنہ صدرِ اسلام میں اس کا نام و نشان نہ تھا بلکہ تمام نبیوںکی موت پر اجماع تھا۔لیکن ان لوگوں میں بھی بہتیرے ایسے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کی موت کے قائل ہیں۔کوئی کہتا ہے کہ وہ تو تین دن تک مرے رہے۔کوئی کہتا ہے کہ سات دن تک مرے رہے اور کوئی ہمیشہ کے لیے ان کا مر جانا مانتا ہے۔بہر حال اصل اجماع اسلامی وہ ہے جو صحابہؓ کے درمیان ہوا۔صحابہؓ میں سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر ہوا کہ تمام انبیاء فوت ہوچکے ہیں۔بغیر اس کے صحابہؓ کو آنحضرتؐکے مَرنے کے بعد کبھی صبر نہیں آسکتا تھا۔یہ مبارک اجماع حضرت ابو بکرؓ کے ذریعہ سے ہوا۔اور اگر کسی کو یہ وہم تھا بھی کہ کوئی نبی زندہ ہے تو وہ بھی دور ہوگیا اور اس طرح آنحضرتؐکی موت کا صدمہ صحابہؓ کے دل سے اٹھا کہ نبی تو سب مرا ہی کرتے ہیں۔اگر کسی فردِ واحد کو قصور درایت کے سبب کچھ غلطی لگی ہوئی تھی تو وہ بھی دور ہوگئی۔خود خدا تعالیٰ کے کلام میں اس امر کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ کوئی آسمان پر نہیں جاتا۔جہاں آنحضرتؐسے کفار نے آسمان پر چڑھنے کا معجزہ طلب کیا تو فرمایا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا(بنی اسـراءیل:۹۴) یعنی بشر رسول کبھی کوئی آسمان پر نہیں چڑھا اور فرمایا مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اَفَاۡىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ ( اٰلِ عـمران:۱۴۵) یعنی کوئی نبی نہیں جو فوت نہیں ہوچکا پس اگر یہ نبی مر جائے یا قتل کیا جائے تو کیا تم دین سے پھر جاؤ گے۔کتب سماوی اور تاریخ زمانہ بھی یہی شہادت دیتی ہیں۔کوئی نظیر ایسی نہیں کہ پہلے کوئی دو چار نبی آسمان پر گئے ہوں۔خود مسیح نے بھی یہی فیصلہ کیا کہ یوحنا ہی الیاس ہے۔ہاں جس طرح آدمؑ، موسٰی، نوحؑ اور دوسرے نبی آسمان پر گئے اس طرح بیشک حضرت عیسیٰ بھی گئے تھے۔چنانچہ شب معراج میں آنحضرتؐنے سب کو آسمان پر دیکھا حضرت عیسیٰ کی کوئی خصوصیت نہ تھی۔افسوس ہے کہ ان لوگوں کی قوت شامہ ہی ماری گئی ہے خود زمانہ کی حالت سے بو آتی ہے کہ ایسا عقیدہ رکھنا عیسائیت کی پہلی اینٹ ہے۔بعض لوگ میری نسبت اعتراض کر کے کہتے ہیں