ملفوظات (جلد 7) — Page 184
ہو وہ ٹکڑے مانگتا پھرے۔اللہ تعالیٰ تو اس کی اولاد پر بھی رحم کرتا ہے۔جب یہ حالت ہے تو پھر کیوں ایسی شرطیں لگا کر ضدیں جمع کرتے ہیں۔ہماری جماعت میں وہی شریک سمجھنے چاہئیں جو بیعت کے موافق دین کو دنیا پر مقدم کرتے ہیں۔جب کوئی شخص اس عہد کی رعایت رکھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف حرکت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو طاقت دے دیتا ہے۔صحابہؓ کی حالت کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کو پاک صاف کر دیا۔حضرت عمرؓ کو دیکھو کہ آخر وہ اسلام میں آکر کیسے تبدیل ہوئے۔اسی طرح پر ہمیں کیا خبر ہے کہ ہماری جماعت میں وہ کون سے لوگ ہیں جن کے ایمانی قویٰ ویسے ہی نشو و نما پائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہی عالم الغیب ہے۔اگر ایسے لوگ نہ ہوں جن کے قویٰ نشو و نما پاکر ایک جماعت قائم کرنے والے ہوں تو پھر سلسلہ چل کیسے سکتا ہے۔مگر یہ خوب یاد رکھو کہ جس جماعت کا قدم خدا کے لیے نہیں اس سے کیا فائدہ؟ خدا کے لیے قدم رکھنا امر سہل بھی ہے جبکہ خدا تعالیٰ اس پر راضی ہو جاوے اور روح القدس سے اس کی تائید کرے۔یہ باتیں پیدا نہیں ہوتی ہیں جب تک اپنے نفس کی قربانی نہ کرے اور اس پر عمل ہو اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاْوٰى (النّٰـزعٰت:۴۱،۴۲)۔هِيَ الْمَاْوٰى سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہشتی زندگی اسی دنیا سے شروع ہو جاتی ہے اگر ہوائے نفس کو روک دیں۔صوفیوں نے جو فنا وغیرہ الفاظ سے جس مقام کو تعبیر کیا ہے وہ یہی ہے کہ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى کے نیچے ہو۔۱ ۷؍اگست ۱۹۰۵ء (قبل از عشاء) بار بار ہونے والے الہامات ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ ایک جگہ مُبَارِکٌ وَّ مُبَارَکٌ وَّکُلُّ اَمْرٍ مُّبَارَکٍ یُّـجْعَلُ فِیْہِ والا الہام چھوٹی <mark>مسجد</mark> کے متعلق ظاہر کیا گیا ہے اور دوسری جگہ وہی الہام بڑی <mark>مسجد</mark> کے متعلق ظاہر کیا گیا ہے۔