ملفوظات (جلد 7) — Page 183
اگر اللہ تعالیٰ کے جلال و جبروت کا دل پر اثر ہو اور اس کی ہستی پر ایمان ہو تو دل ڈر جاوے اور یہ فسق و فجور اورشرورِ نفسانی جس میں دنیا مبتلا ہے اس سے نجات پا جائیں اور اس کی طرف آنے میں ایسی شرطیں نہ لگائیں۔کیسی حیرانی کی بات ہے۔کیا بیمار طبیب کے پاس جا کر اسے کچھ نذرانہ دیتا ہے یا اس سے یہ شرط کرتا ہے کہ اگر میں اچھا ہو جاؤں تو مجھے اس قدر نذرانہ دینا؟ جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی طرف آتے ہی نہیں۔ان کا مقصد اور غرض تو وہ کمبخت دنیا ہوتی ہے جس کو وہ پیش کرتے ہیں۔ان کے دل میں یہ سوز و گداز اور جلن نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق ہو اور اس کی طرف دلی رجوع اور توجہ ہو جاوے اگر یہ قلق اور کرب پیدا ہو تو ایسی باتیں نہ کریں کیونکہ بیمار خواہ جسمانی ہو یا روحانی جب وہ اپنی مرض کو محسوس کر لیتا ہے تو وہ تو بےاختیار ہو کر تڑپتا پھرتا ہے اور طبیب کے کہنے پر اس قدر ایمان لاتا ہے کہ جو کچھ وہ دے دے اسے اپنی بہتری کے لیے کھا لیتا ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ آنا تو دین کی طرف اور اس کے لیے دنیا کی شرط لگانا!!! بعض لوگ اس قسم کے بھی ہوتے ہیں کہ ذرا دنیا کا کوئی ابتلا پیش آجاوے تو سارا جوش ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔اگر ایسے ہی لوگ ہماری جماعت میں داخل ہوں تو ان سے کیا فائدہ اور صحابہؓ سے کیا مقابلہ؟ صحابہؓ کی عجیب حالت تھی۔ان کے بیوی بچے بھی تھے پھر بھی ہزاروں خدا تعالیٰ کی راہ میں مارے گئے۔اگر وہ دین کو دنیا پر مقدم نہ کر لیتے تو کیونکر ممکن تھا کہ وہ اپنی جانوں کو اس طرح پر خدا کی راہ میں دے دیتے۔لکھا ہے کہ ایک صحابیؓ کے ہاتھ میں کچھ کھجوریں تھیں اور وہ کھا رہا تھا اسے معلوم ہوا کہ دوسرا شہید ہوگیا ہے اس نے اپنے نفس کو سخت ملامت کی کہ تیرا بھائی شہید ہوگیا ہے اور تو ابھی باقی ہے۔یہ تھی ان لوگوں کی ایمانی حالت! میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دین کے ساتھ دنیا جمع نہیں ہو سکتی۔ہاں خدمتگار کے طور پر تو بیشک ہوسکتی ہے لیکن بطور شریک کے ہرگز نہیں ہو سکتی۔یہ کبھی نہیں سنا گیا کہ جس کا تعلق صافی اللہ تعالیٰ سے