ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 179

تو نیک کیوں کہتا ہے کیونکہ تو مجھے نیک نہیں جانتا۔یہ بھی بالکل غلط بات ہے کہاں سے معلوم ہوا کہ وہ منافق تھا۔غرض اصل بات یہی ہے کہ خدا کے برگزیدہ بندے اپنی عبودیت کا اعتراف کرتے رہتے ہیں اور دعاؤں میں لگے رہتے ہیں۔احمق ان باتوں کو عیب سمجھتے ہیں۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کو دیکھا جاوے تو پھر ایسے احمق اعتراض کرنے والے تو خدا جانے کیا کیا کہیں۔جیسے اَللّٰھُمَّ بَاعِدْبَیْنِیْ وَ بَیْنَ خَطَایَایَ کَمَا بَاعَدْتَّ بَیْنَ الْمَشْـرِقِ وَالْمَغْرِبِ۔۱ <mark><mark><mark>گرمیوں</mark></mark></mark> کو <mark><mark>روحانی</mark></mark> <mark><mark>ترقی</mark></mark> کے ساتھ مناسبت ہے ایک مخلص نے پہاڑ پر جانے کے لیے اجازت چاہی۔اس کے متعلق تذکرہ آنے پر فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے وعدے بالکل سچے ہیں جبکہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کوئی عذاب شدید آنے والا ہے تو اس کا کوئی وقت تو ہمیں معلوم نہیں ہے اس لیے <mark><mark>بڑی</mark></mark> احتیاط کرنی چاہیے۔پہاڑوں پر کیا ہے؟ ہم تو گرمیاں یہاں ہی بسر کرتے ہیں کوئی ایسی تکلیف نہیں ہوتی۔بلکہ میں ایک مرتبہ ڈلہوزی گیا کسی مقدمہ کی تقریب تھی۔جب میں وہاں پہنچا تو خلاف عادت دیکھا نہ گرمی ہے نہ پسینہ آتا ہے۔بارش ہوتی ہے اور بادل گھروں میں اندر گھس آئے ہر وقت اندر بیٹھے رہنا نہ چلنے پھرنے کے لیے موقع ملے۔اگر ہر روز چائے نہ پئیں تو اسہال آجائیں۔ایک دو دن میں نے گذارے پھر سخت تکلیف محسوس ہونے لگی اور میں جب تک پٹھان کوٹ نہ پہنچ گیا طبیعت میں نشاط اور انشراح پیدا نہ ہوا۔ان کو لکھ دو کہ وہ یہاں آجائیں۔اگر بارش ہوتی رہی تو یہاں بھی موسم اچھا ہے اور ۱۵؍ ستمبر تک تو امید ہے موسم میں <mark><mark>بڑی</mark></mark> تبدیلی ہوجائے گی۔فرمایا۔میں دیکھتا ہوں کہ <mark><mark><mark>گرمیوں</mark></mark></mark> کو بھی <mark><mark>روحانی</mark></mark> <mark><mark>ترقی</mark></mark> کے ساتھ <mark><mark>خاص</mark></mark> مناسبت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے مکہ جیسے شہر میں پیدا کیا اور پھر آپ ان <mark><mark><mark>گرمیوں</mark></mark></mark> میں <mark>تنہا</mark>