ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 178

نے جو اشتہار متعلقہ زلزلہ میں اس قسم کے الفاظ استعمال کئے ہیں ان پر مولوی محمد حسین بٹالوی نے اعتراض کیا ہے۔اعلیٰ حضرت نے میرے معزز بھائی مفتی محمد صادق صاحب کو غالباً بائبل میں ایسے مقامات دیکھنے کے لیے ارشاد فرمایا تھا۔اس کا ذکر مفتی صاحب نے کیا۔اس پر اعلیٰ حضرت نے فرمایا اس قسم کے الفاظ تمام نبیوں کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔چونکہ ان کی معرفت بہت بڑھی ہوئی ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کے مقام کو شناخت کرتے ہیں۔اس لیے نہایت انکسار اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔نادان جن کو اس مقام کی خبر نہیں ہے۔وہ اس پر اعتراض کرتے ہیں۔حالانکہ یہ ان کی کمال معرفت کا نشان ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ وَ رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا (الـنصـر:۲تا۴) آیا ہے۔اس میں صاف فرمایا ہے تو استغفار کر۔اس سے کیا مراد ہے؟ اس سے یہی مراد ہے کہ تبلیغ کا جو عظیم الشان کام تیرے سپرد تھا دقائق تبلیغ کا پورا پورا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اس لیے اگر اس میں کوئی کمی رہی ہو تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے۔یہ استغفار تو نبیوں اور راست بازوں کی جان بخش اور عزیز چیز ہے۔اب اس پر نادان اور کوتاہ اندیش عیسائی اعتراض کرتے ہیں۔جہاں استغفار کا لفظ انہوں نے سن لیا جھٹ اعتراض کر دیا۔حالانکہ اپنے گھر میں دیکھیں تو مسیح کہتا ہے کہ مجھے نیک مت کہہ۔اس کی تاویل عیسائی یہ کرتے ہیں کہ مسیح کا منشا یہ تھا کہ مجھے خدا کہے۔یہ کیسے تعجب کی بات ہے۔کیا مسیح کو ان کی والدہ مریم یا ان کے بھائی خدا کہتے تھے جو وہ یہی آرزو اس شخص سے رکھتے تھے کہ وہ بھی خدا کہے۔انہوں نے یہ لفظ تو اپنے عزیزوں اور شاگردوں سے بھی نہیں سنا تھا۔وہ بھی استاد استاد ہی کہا کرتے تھے۔پھر یہ آرزو اس غریب سے کیونکر ان کو ہوئی۔کیا وہ خوش ہوتے تھے کہ کوئی انہیں خدا کہے؟ یہ بالکل غلط ہے۔ان کو نہ کسی نے اوستاد۱ کہا اور نہ انہوں نے کہلوایا۔پھر ایک اور توجیہ کرتے ہیں کہ در اصل وہ شخص منافق تھا۔اس لیے حضرت مسیح گویا خفا ہوئے کہ