ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 174

نزدیک اس کی کوئی قدر نہیں ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ تمہارا تعلق خدا تعالیٰ کے ساتھ کامل وفاداری کا نمونہ ہو۔موت کا واعظ انسان کی عجیب حالت ہے کہ اگر کہیں سانپ نکلے تو اس سے دہشت کھاتا ہے اور جس اندر کی بابت اسے گمان ہو کہ جہاں سانپ ہے وہاں جاتے ہوئے ڈرتا ہے لیکن ہزاروں تجارب موت فوت کے اس کے سامنے ہیں اور پھر بھی نصیحت نہیں پکڑتا۔ورنہ ایک موت ہی کا واعظ اس کی اصلاح کے لیے کافی تھا۔جھوٹے قصوں پر ایمان کا نتیجہ جھوٹے قصوں سے جھوٹا بھروسہ پیدا ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آخر اصلیت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے جیسے کیمیا کی وہمی باتوں کے بھروسہ میں انسان اگلی دولت بھی کھو بیٹھتا ہے۔جھوٹے خیالات اور خیالی قصوں کا بھی اثر ایمان پر ہوتا ہے۔جو لوگ قرآن شریف کو جو اللہ تعالیٰ کی کلام ہے چھوڑتے ہیں وہ آخر اسی مرض میں گرفتار ہو کر اپنے ایمان کو ضائع کر لیتے ہیں۔قرآن شریف میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جو انسان کو دھوکہ دے۔اصل میں انسان کے ایمان کی تازگی اسی وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اللہ تعالیٰ ہی پر ایمان لاتا ہے اسی وقت اس کے گناہ دور ہونے لگتے ہیں۔حقیقی ایمان جب تک پیدا نہیں ہوتا گناہ کی زہر سے انسان بچ نہیں سکتا۔میرے نزدیک ایمان کی شناخت کا یہی بڑا معیار ہے اور ہر شخص اپنے ایمان کو اس پر آزما سکتا ہے۔اس لیے دلیل ظاہر ہے کہ جو لوگ سمّ الفار کو زہر سمجھتے ہیں وہ اسے نہیں کھاتے ہیں۔اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ اس کو کھا کر ہلاک ہو جائیں گے۔اسی طرح پر گناہ بھی ایک زہریلا پھل ہے جسے کھاتے ہی انسان مر جاتا ہے۔لیکن اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان ہو تو انسان اس پھل کے نزدیک جانے سے ڈرتا ہے۔اس پر اس کی ہلاکت کی تاثیروں کا دروازہ کھل جاتا ہے۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ بے حیائی اور کھلی بد کاری کی بیماری جو دنیا میں پھیل رہی ہے یہ دہریت کے روگ سے شروع ہوئی ہے اور اس کی جڑ کفارہ کے جھوٹے فسانے ہیں۔