ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 173

مولوی ثناء اللہ امرتسری گیا تھا۔وہاں اس نے عام مجمع میں اثنائے وعظ میں کہا کہ مرزا صاحب کے مرید لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مِرْزَا غُلَامِ اَحْـمَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یہ کلمہ پڑھتے ہیں۔اس پر ایک مخالف مگر انصاف پسند شخص نے کھڑے ہو کر کہا کہ مولوی صاحب اگر یہ کلمہ مرزا صاحب کی کسی تصنیف سے نکال دیں تو میں پانچسو روپیہ ابھی آپ کو نقد انعام دیتا ہوں۔یہ تحدی سن کر مولوی صاحب چکرائے اور اکثر لوگ بیزار ہو کر حلقہ وعظ سے اٹھ گئے مولوی صاحب اپنا سا منہ لے کر واپس آئے۔نکتہ معرفت حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔ہمارے اور ہمارے مخالفوں کے درمیان یہ فرق ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو لاکر امت بناتے ہیں اور ہم امت کو مسیح بناتے ہیں۔۱ بلا تاریخ صحیح علم کی ضرورت اور اس کے حصول کا ذریعہ قوتِ ذوق شوق علم سے پیدا ہوتی ہے۔جب تک علم اور معرفت نہ ہو کیا ہوسکتا ہے۔رَبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا (طٰہٰ:۱۱۵) کی دعا میں یہ بھی ایک سِر ہے کیونکہ جس قدر آپ کا علم وسیع ہوتا گیا اسی قدر آپ کی معرفت اور آپ کا ذوق شوق ترقی کرتا گیا۔پس اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت میں اسے ذوق شوق پیدا ہو تو اس کو اللہ تعالیٰ کی نسبت صحیح علم حاصل کرنا چاہیے اور یہ علم کبھی حاصل نہیں ہوتا جب تک انسان صادق کی صحبت میں نہ رہے اور اللہ تعالیٰ کی تازہ بتازہ تجلیات کا ظہور مشاہدہ نہ کرے۔کامل وفاداری کی ضرورت اللہ تعالیٰ کے ساتھ صحیح اور سچا تعلق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان پورا وفادار اور مخلص ہو۔جو شخص وفادار نہیں اگر وہ ہر روز اس قدر روتا رہے کہ اس کے آنسوؤں کا ایک چھپڑ۲ لگ جاوے تو بھی خدا تعالیٰ کے