ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 170

فرمایا۔یہ تو وہی بات ہوئی کہ ایک بزرگ کسی شہر میں بہت بیمار ہوگئے اور موت تک حالت پہنچ گئی تب اپنے ساتھیوں کو وصیت کی کہ مجھے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کرنا۔دوست حیران ہوئے کہ یہ عابد زاہد آدمی ہیں۔یہودیوں کے قبرستان میں دفن ہونے کی کیوں خواہش کرتے ہیں شاید اس وقت حواس درست نہیں رہے۔انہوں نے پھر پوچھا کہ یہ آپ کیا فرماتے ہیں؟ بزرگ نے کہا کہ تم میرے فقرہ پر تعجب نہ کرو۔میں ہوش سے بات کرتا ہوں اور اصل واقعہ یہ ہے کہ تیس سال سے میں دعا کرتا ہوں کہ مجھے موت طوس کے شہر میں آوے پس اگر آج میں یہاں مر جاؤں تو جس شخص کی تیس سال کی مانگی ہوئی دعا قبول نہیں ہوئی وہ مسلمان نہیں ہے۔میں نہیں چاہتا کہ اس صورت میں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہو کر اہل اسلام کو دھوکا دوں اور لوگ مجھے مسلمان جان کر میری قبر پر فاتحہ پڑھیں۔قدرت خداوندی وہ اس وقت تندرست ہوگیا اور پھر دس پندرہ سال کے بعد شہر طوس میں بیمار ہو کر فوت ہوگیا۔فرمایا۔مرحومہ نے اپنی عمر میں بہت شدائد اور مصائب اٹھائے۔کتنی اولاد مرگئی۔یہ مصائب جو قضا و قدر سے انسان پر پڑتے ہیں اس کی کمی پورا کر دیتے ہیں جو انسان سے اعمال حسنہ میں رہ جاتی ہے۔جب حضرت کے ہاں صاحبزادہ میاں بشیر احمد تولد ہوئے تھے تو حضرت نے مرحومہ کو فرمایا تھا کہ یہ تمہارا بیٹا ہے۔اس واسطے بشیر احمد کے ساتھ مرحومہ کو خاص محبت تھی۔صاحبزادہ بشیر احمد جنازہ کے ساتھ اور دفن کے وقت اس طرح موجود رہے کہ ان کا چہرہ اس اندرونی محبت کو ظاہر کرتا تھا۔۱ ۲۹؍جولائی ۱۹۰۵ء (قبل از عشاء) دعاؤں کی قبولیت کے لوازمات بعد ادائے نماز مغرب حضرت حجۃ اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لے گئے اور عشاء کی نماز کی اذان ہوتے ہی