ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 169

اس کی معرفت دنیا میں پھیلتی ہے لیکن جس زمانہ میں وہ مخفی ہوتا ہے اس زمانہ میں عابدوں کی عبادت اور زاہدوں کے زُہد بھی ادھورے اور نکمّے رہ جاتے ہیں۔یہ الہام براہین احمدیہ میں بھی درج ہے۔لیکن اب پھر اس کے خاص ظہور کا وقت معلوم ہوتا ہے۔اس واسطے دوبارہ یہ الہام ہوا ہے۔باطنی عالم اسباب فرمایا۔دعا اور توجہ میں ایک روحانی اثر ہے جس کو طبعی لوگ جو صرف مادی نظر رکھنے والے ہیں نہیں سمجھ سکتے۔سنت اللہ میں دقیق در دقیق اسباب کا ذخیرہ ہے جو دعا کے بعد اپنا کام کرتا ہے نیند کے واسطے طبعی اسباب رطوبات کے بیان کئے جاتے ہیں مگر بہت دفعہ آزمائش کی گئی ہے کہ بغیر رطوبات کے اسباب کے ایک نیند سی آجاتی ہے اور ایک حالت طاری ہوتی ہے جس میں سلسلہ الہامات کا وارد ہوتا ہے اور وہ بعض اوقات ایسا لمبا سلسلہ ہوتا ہے کہ انسان بار بار اپنے رب سے سوال کرتا ہے اور رب جواب دیتا ہے۔ایسا ہی بعض مادی لوگوں نے چند ظاہر اسباب کو دیکھ کر فتویٰ لگایا ہے کہ اب زلازل کا خاتمہ ہے اور دو سو سال تک یہاں کوئی زلزلہ نہیں آئے گا۔لیکن یہ لوگ در اصل اللہ تعالیٰ کے باریک رازوں اور اسباب سے بے خبر ہیں۔وہ ظاہر عالم اسباب کو جانتے ہیں لیکن اس کا ایک باطنی عالم اسباب بھی ہے۔؎ فلسفی گو منکر حنّانہ است از حواسِ اولیاء بیگانہ است اس جہاں کے لوگ جب فتنہ و فساد کی کثرت کو دیکھ کر اس کی اصلاح سے عاجز آجاتے ہیں تب اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو ایسے قویٰ عطا کرتے ہیں جن کی توجہ سے سب کام درست ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ دعا کے ذریعہ سے عمریں بڑھ جاتی ہیں۔انبیاء خلقت کی ہدایت کے واسطے بہت توجہ کرتے ہیں۔اسی کی طرف قرآن شریف میں اشارہ ہے کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ (الکھف:۷) آنحضرتؐکو مخلوق کی ہدایت کا اس قدر غم تھا کہ قریب تھا کہ اسی میں اپنے آپ کو ہلاک کر دیں۔ظاہری قیل و قال سے کچھ نہیں ہوتا۔اندرونی صفائی اور روحانیت کی ضرورت ہے۔۱