ملفوظات (جلد 7) — Page 146
ساتھ ضد کرتے ہیں ورنہ یہ محاورہ سب زبانوں میںپایا جاتا ہے۔آتھم کے متعلق جب ہم نے پیشگوئی کی تھی تو اس نے اسی مجلس میں کہا تھا کہ میں تو مرگیا۔باوجود عیسائی ہونے کے وہ ادب کا بہت لحاظ رکھتا تھا اور یہی سبب تھا کہ وہ ڈرتا رہا اور میعاد کے اندر مرنے سے بچ گیا۔ابولہب کے متعلق صاف پیشگوئی مکہ میں کی گئی تھی کہ وہ ہلاک ہوگیا۔حالانکہ وہ جنگ بدر کے بعد طاعون سے مرا تھا۔فرمایا۔رَوح و ریحان سے مراد ہر قسم کی آسائش اور آسودگی ہوتی ہے۔۱ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ مبارک منہ کے مبارک الفاظ معناً (مرقومہ شیخ عبد الرحیم صاحب) بو۲قت ۹ بجے آپ باہر تشریف لائے۔شیخ رحمت اللہ صاحب نو وارد اور مولوی صاحبان اور دیگر احباب محفل موجود تھے۔ادھر ادھر کی باتوں میں آپ نے فرمایا کہ ہم خدا کے مرسلین اور مامورین کبھی بزدل نہیں ہوا کرتے بلکہ سچے مومن بھی بزدل نہیں ہوتے۔بزدلی ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے۔صحابہ رضی اللہ عنہم پر مصیبتوں نے بار بار حملے کئے مگر انہوں نے کبھی بزدلی نہیں دکھائی۔خدا تعالیٰ ان کی نسبت فرماتا ہے مِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا(الاحزاب : ۲۴) یعنی جس ایمان پر انہوں نے کمر ہمت باندھی تھی اس کو بعض نے تو نبھا دیا اور بعض منتظر ہیں کہ کب موقع ملے اور سر خرو ہوں اور انہوںنے کبھی کم ہمتی اور بزدلی نہیں دکھائی۔سب سے بڑھ کر راحت دعا کے متعلق آپ نے فرمایا کہ ادھر کی جاتی ہے اور ادھر جواب ملتا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا