ملفوظات (جلد 7) — Page 145
ان لوگوں کی جن پر تو نے انعام کیا (۲) میں ان کو سزا دوں گا (۳) میں اس عورت کو سزا دوں گا۔معلوم نہیں یہ کس کے متعلق ہے۔اس کے بعد گھر والوں کے متعلق یہ الہام ہوا رَدَّ اِلَیْـھَا رَوْحَھَا وَرَیْـحَانَـھَا۔اِنِّیْ رَدَدْتُّ اِلَیْـھَا رَوْحَھَا وَ رَیْـحَانَـھَا۔رؤیا اسی وقت جبکہ مذکورہ بالا الہام ہوا دیکھا کہ کسی نے کہا کہ آنے والے زلزلہ کی یہ نشانی ہے۔جب میں نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ اس ہمارے خیمہ کے سر پر سے جو باغ کے قریب نصب کیا ہوا ہے ایک چیز گری ہے۔خیمہ کی چوب کا اوپر کا سِرا وہ چیز ہے۔جب میں نے اٹھایا تو وہ ایک لونگ ہے جو عورتوںکے ناک میں ڈالنے کا ایک زیور ہے۔اور ایک کاغذ کے اندر لپیٹا ہوا ہے۔میرے دل میں خیال گذرا کہ یہ ہمارے ہی گھر کا مدت سے کھویا ہوا تھا اور اب ملا ہے اور زمین کی بلندی سے ملا ہے اور یہی نشانی زلزلہ کی ہے۔۱ آج کی تازہ وحی رَدَّ اِلَیْـھَا رَوْحَھَا وَ رَیْـحَانَـھَا کا ذکر تھا۔فرمایا۔اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے ماضی کا صیغہ استعمال کیا ہے۔تمام سماوی کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی امر کے ضرور آئندہ پورا ہوجانے کے متعلق کسی پیشگوئی کو ظاہر فرماتے وقت ماضی کا صیغہ استعمال کرتا ہے مثلاً قرآن شریف میں آیا ہے تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ (اللَّھب:۲) ابولہب کے دونو ہاتھ ہلاک ہوگئے اور وہ خود بھی ہلاک ہوگیا۔یہ وحی الٰہی بطور پیشگوئی کے ایسے وقت میں نازل ہوئی تھی جبکہ ابو لہب چنگا بھلا پھرتا تھا۔لیکن آسمان پر اس کے لیے ہلاکت کا حکم ہوچکا تھا۔اس واسطے یہ بات ایسے طور پر بیان کی گئی کہ یہ کام ہوچکا ہے۔پہلے ایک معاملہ آسمان پر ہو جاتا ہے اور پھر زمین پر اس کا ظہور ہوتا ہے۔ایسا ہی ہمارا الہام عَفَتِ الدِّیَارُ والا تھا یعنی مٹ گئے گھر۔اگرچہ گیارہ ماہ پہلے یہ زلزلہ کی پیشگوئی تھی تاہم چونکہ آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ زلزلہ ضرور آئے گا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مکانات عارضی اور مستقل سب گر گئے اور نشان مٹ گئے۔جو لوگ مثلاً پیسہ اخبار کے نامہ نگار وغیرہ اعتراض کرتے ہیں وہ اس محاورہ سے ناواقف اور جاہل ہیں یا جان بوجھ کر تعصب کے