ملفوظات (جلد 7) — Page 103
مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ۔وَ یَأْتِیْکَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ۔اور ایسے وقت فرمایا تھا کہ کوئی شخص بھی مجھے نہ جانتا تھا۔اب یہ پیشگوئی کیسے زور شور سے پوری ہو رہی ہے۔کیا اس کی کوئی نظیر بھی ہے؟ غرض ہمیں ضرورت کیا پڑی ہے کہ ہم زندہ خدا کو چھوڑ کر مُردوںکو تلاش کریں؟۱ ۲۷؍مارچ ۱۹۰۵ء (بوقتِ ظہر) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اہم مکتوب ظہر کی اذان ہو چکنے کے بعد اعلیٰ حضرت تشریف لائے۔باہر سے آئے ہوئے مہمانوں نے شرفِ زیارت پایا۔زاں بعد حضرت مخدوم الملت مولوی عبد الکریم صاحب نے بابو عطا الٰہی صاحب سٹیشن ماسٹر کی طرف سے حصولِ اجازت کے لیے عرض کیا۔آپ نے بابو عطا الٰہی صاحب کو بلا کر فرمایا کہ مئی، جون، جولائی وغیرہ مہینوں میں کوئی موقع یہاں رہنے کے لیے نکالنا چاہیے۔آئندہ جب رخصت لو تو ان مہینوں کو مد نظر رکھ لینا۔اس کے بعد حضرت مخدوم الملت نے عرض کیا کہ میں نے حضور کا وہ خط اخبار میں شائع کرنے کو دے دیا ہے اور اس پر ایک مضمون بھی لکھ دیا ہے۔فرمایا۔بہت اچھا کیا؟۲ (جس خط کا حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے ذکر کیا ہے یہ خط الحکم جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخہ ۳۱؍مارچ ۱۹۰۵ء صفحہ ۸ پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے تشریحی مضمون کے ساتھ شائع ہوا ہے جو مندرجہ ذیل ہے۔مرتّب) ’’محبی اخویم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔میں ایک مدت سے بیماریوں میں رہا۔اور اب بھی ان کا بقیہ باقی ہے۔میں چاہتا تھا کہ اپنے ہاتھ