ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 102

۲۵؍مارچ ۱۹۰۵ء (بوقتِ عصر) اپنی صداقت پر کمال یقین عصر کی نمازسے پیشتر حضرت حجۃ اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور صاحبزادہ سراج الحق صاحب نعمانی نے اپنے بڑے بھائی شاہ خلیل الرحمٰن صاحب سجادہ نشین سرساوہ کا خط سنایا جس میں انہوں نے حضرت حجۃ اللہ علیہ الصلوٰۃ و السلام کی نسبت بطور پیشگوئی لکھا تھا کہ وہ جلد فوت ہوجائیں گے اور ان کے سلسلہ کا خاتمہ ہوجائے گا اور یہ بھی لکھا تھا کہ میں کشف قبور کر سکتا ہوں اور کرا سکتا ہوں۔اگر مرزا صاحب سچے ہیں تو وہ بھی مجھے کشف قبور کر کے دکھائیں وغیرہ۔ملخّصاً۔حضرت اقدسؑ نے سر سری طور پر اس کارڈ کو سن لیا۔پھر نمازِ عصر ادا فرمائی۔بعد نماز عصر کوئی ایسی تحریک آپ کو ہوئی کہ آپ نے صاحبزادہ سراج الحق صاحب کو وہیں مسجد ہی میں بلایا اور فرمایا کہ جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔آپ ان کو اپنی طرف سے ایک خط لکھ دو کہ یہ پیشگوئی جو آپ نے کی ہے اس سے میری تو برسوں کی مراد بَر آئی۔میں یہی چاہتا تھا کیونکہ اس سے سچائی کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔لیکن مہربانی کر کے اتنی تصریح کر دو کہ کیا وہ (مرزا صاحب) آپ سے پہلے فوت ہوں گے یا پیچھے تاکہ پھر اس پیشگوئی کو آپ کی کرامت قرار دے کر شائع کر دیا جاوے۔جب یہ پیشگوئی پوری ہوگی اس وقت دنیا دیکھ لے گی۔پس آپ اب ہرگز دیر نہ کریں۔بہت جلد اس امر کو لکھ بھیجیں۔اور کشف قبور کا معاملہ تو بالکل بیہودہ امر ہے۔جو شخص زندہ خدا سے کلام کرتا ہے اور اس کی تازہ بتازہ وحی اس پر آتی ہے اور اس کے ہزاروں نہیں لاکھوں ثبوت بھی موجود ہیں۔اس کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ مُردوں سے کلام کرے اور مُردوں کی تلاش کرے اور اس امر کا ثبوت ہی کیا ہے کہ فلاں مُردے سے کلام کیا ہے۔یہاں تو لاکھوں ثبوت موجود ہیں۔ایک ایک کارڈ اور ایک ایک آدمی اور ایک ایک روپیہ جو اَب آتا ہے وہ خدا کا ایک زبردست نشان ہے۔کیونکہ ایک عرصہ دراز پیشتر خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ يَاْتُوْنَ