ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 83

سے خدائی کی دلیل پکڑتے تو خدا ضرور بیان کرتا کہ فلاں فلاں انبیاء بھی آسمان پر زندہ موجود ہیں اس سے کوئی خدا نہیں بن سکتا جبکہ چالیس کروڑ انسان اسے آگے ہی خدا مان کر گمراہ ہو رہے ہیں تو تم نے ان کے ساتھ مل کر اور ہاں میں ہاں ملا کر اس کی خدائی پر اور مہر لگا دی۔اس کا باعث صرف ان لوگوں کی بدعملی ہے کہ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اَور اورکھانے کے اَور۔اور ایک ایک روپیہ لے کر فتوے بدل دیتے ہیں۔اندرونی راست بازی بالکل نیست ونابود ہوگئی اور اب حدیث شریف کے موافق بالکل یہودی ہوگئے ہیں۔یہ امید تو ہے نہیں کہ یہ لوگ ان سچائیوں کو مانیں ہاں ان کی ذرّیّت اگر مانے تو مانے۔اس کے بعد آپ نے مقدمات کا تذکرہ کیا کہ ان کی ابتدا کیوںکر ہوئی۔کس طرح اوّل کرم دین نے مولوی عبد الکریم صاحب کو بذریعہ خطوط اطلاع دی کہ مہر علی شاہ نے فیضی متوفّی کی کتاب سے سر قہ کیا ہے۔اس کی اطلاع پر کتاب نزول المسیح لکھی گئی۔پھر اس نے اپنے خطوط کے بر خلاف ایک مضمون سراج الاخبار میں لکھ کر سبّ وشتم کیا اور ان کو اپنی طرف منسوب کرنے سے انکار ی ہوا۔اس طرح سے ہمارا چلتا کام بند ہوگیا۔تنگ آکر حکیم صاحب نے دعویٰ کیا پھر کرم دین نے جہلم میں ہم پر ایک مقدمہ کیا وہ بڑا خطرناک مقدمہ تھا۔اس کے متعلق میں نے اوّل ہی خوابات دیکھے تھے جو کہ شائع ہوچکے ہوئے تھے اور قبل از وقت اس میں کامیابی کی خبر بھی خدا سے پا کر ہم نے شائع کردی تھی۔اس میں ہمیں کامیابی ہوئی۔پھرکرم دین نے خودہم پر استغاثہ دائر کیا۔وہ مقدمات ابھی چل رہے ہیں۔منصف حاکم کو تو خود خبر نہیں ہوتی کہ انجام کار مقدمہ کی کیا صورت ہوگی۔ہماری تائید تو ہمیشہ خدا سے ہوتی ہے ورنہ جمہوری طور پر تو حکّام کا میلان ہماری طرف کم ہی ہوتا ہے اور سوائے پروردگار کے اور کس کی ذات ہے کہ اس پر بھروسہ کیا جاسکے۔زمین پر کیسے ہی آثار نظر آویں مگر بار بار جو حکم آسمان سے آتا ہے کہ تَرٰى نَصْرًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ وہ آخر ہو کر رہے گا۔؎ بنگر کہ خون ناحق پروانہ شمع را چندان امان نداد کہ شب راسحر کند ۱ ۲۳؍فروری۱۹۰۴ء (بوقتِ شب)