ملفوظات (جلد 6) — Page 82
نہیں آتے تو معلوم ہوا کہ شامتِ اعمال ہے۔تقویٰ تو نہیں رہی تھی۔عقلِ سلیم بھی ان میں نہیں رہی دنیوی عقل کے لیے تقویٰ کی ضرورت نہیں ہے مگر دین کے لیے ضرورت ہے۔اس لیے یہ لوگ دین کی باتوں کو بھی نہیں سمجھتے۔خدا تعالیٰ اسی کی طرف اشارہ کرکے فرماتا ہے لَا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ۠(الواقعۃ:۸۰) یعنی اندر گھسنا تو درکنار مَس کرنا بھی مشکل ہے جب تک انسان مطہّر یعنی متقی نہ ہولے۔احادیث میں مِنْکُمْ ہے،قرآن میں مِنْکُمْ ہے۔پھر بغیر نظیر کے کوئی بات نہیں مانی جاتی۔عیسائیوں نے جب مسیح کے بن باپ ہونے سے اس کی خدائی کا استدلال کیا تو خدا تعالیٰ نے نظیر بتلا کر ان کی بات کو ردّ کر دیا۔فرمایا اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ( اٰل عـمران:۶۰)کہ اگر بن باپ ہونے سے انسان خدا ہوسکتا ہے تو آدم ؑ کی توماں بھی نہ تھی اسے خدا کیوں نہیں مان لیتے۔پس جب نصاریٰ کی اس بات کو خدا نے ردّ کردیا تو اگر مسیح بھی واقعی آسمان پر زندہ ہوتا اور عیسائی اسے خدائی کی دلیل گردانتے تو اللہ تعالیٰ اس کا بھی ردّکرتا اور چند ایک نظائر پیش کرتا کہ فلاں فلاں اور نبی زندہ آسمان پر موجود ہیں۔ہر ایک پہلو سے ان لوگوں پر اتمامِ حجّت ہو چکا ہے۔اب یہ لوگ مصداق صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْيٌ کے ہیں۔بھلا دیکھو تو جس حال میں کہ میں زندہ موجود ہوں کیا یہ ان کا حق نہ تھا کہ مجھ سے آکر سوال کرتے پوچھتے اور اپنے شکوک و شبہات پیش کرتے۔میں نے بارہا لکھا کہ ان کے اخراجاتِ سفر دینے کو میں طیار ہوں یہاں آویں مکان بھی دوں گا حتی الوسع مہمان نوازی بھی کروں گا لیکن یہ لوگ اِدھر رخ نہیں کرتے۔ہمیں کہتے ہیں کہ قرآن سے باہر ہیں حالانکہ قرآن ہی نے تو ہمیں اس کوچے میں کھینچا ہے صرف فرق اتنا ہے کہ ہمیں قرآن کے معنے وحی نے بتلائے ہیں۔اس کے ہوتے ہوئے دیدہ دانستہ کیسے اپنی آنکھوں کو پھوڑ لیں۔خدا تعالیٰ کا یہ فرض تھا کہ اگر عیسائی لوگ مسیح کی خدائی کے لیے خصوصیت پیدا کریں تو وہ اس کا ردّ کرتا جیسے آدم کی مثال بیان کی۔کیا خدا کو اس خصوصیت کا علم نہ تھا کہ مسیح آسمان پر زندہ ہے پھر اس کا اس نے کیوں ردّ نہ کیا اس طرح سے قرآن پر حرف آتا ہے اگر مسیح آسمان پر زندہ ہوتا اور عیسائی لوگ اس