ملفوظات (جلد 6) — Page 79
بعض وقت جماعت پر ابتلا بھی آتے ہیں اور تفرقہ پڑ جایا کرتا ہے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ مکہ، مدینہ، حبش کی طرف منتشر ہو گئے تھے لیکن آخر خدا تعالیٰ نے ان کو پھر ایک جاجمع کر دیا۔ابتلا اس کی سنّت ہے اور ایسے زلزلے آتے ہیں کہ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ(البقرۃ:۲۱۵)کہنا پڑتا ہے اور بعض کا خیال اس طرف منتقل ہو جاتا ہے کہ ممکن ہے وہ وعدے غلط ہوں مگر انجام کار خدا کی بات سچی نکلتی ہے۔حقانیت ِاحمدیت یہ سلسلہ اپنے وقت پر آسمان سے قائم ہوا ہے اگر اور سب دلائل کو نظر انداز کر دیا جاوے تو صرف وقت ہی بڑی دلیل ہے صدی سے ۲۰ سال بھی گزر گئے خدا کا وعدہ قرآن شریف اور احادیث میں ہے کہ وہ مسیح صلیبی فتنہ کے وقت پیدا ہوگا اب ان فتنوں کا زور دیکھ لو۔رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ۳۰ لاکھ مرتد موجود ہے حالانکہ اس سے پیشتر اگر اہلِ اسلام میں ایک مرتد ہوتا تو قیامت آجاتی۔کیا اس وقت بھی خدا خبر نہ لے۔پھر عملی حالت کو دیکھ لو کہ کس قدر ردّی ہے۔نام کو تو مسلمان ہیں مگر کر تو ت یہ ہے کہ بھنگ چرس وغیرہ نشوں میں مبتلا ہیں کیا اب بھی وقت نہیں ہے عیسائی لوگ بھی منتظر ہیں اور یہی وقت بتلاتے ہیں اہلِ کشف نے بھی یہی لکھا ہے قرائن وعلامات بھی اسی کو بتلارہے ہیں اگر اس وقت خدا خبر نہ لیتا تو دنیا میں یا ضلالت ہوتی یا عیسویت جو قرآن پر اور اللہ پر ایمان لاتاہے اسے ماننا پڑتا ہے لیکن جو یہود کی طرح وقت کو ٹالنے والے ہیں وہ محروم رہتے ہیں۔سوادِ اعظم کی حقیقت پھر ایک دلیل سوادِ اعظم کی پیش کرتے ہیں کہ وہ برخلاف ہے۔نادان اتنا نہیں جانتے کہ مصلح تو اسی وقت آتا ہے جب لوگ بگڑ جاویں اب بگڑے ہوؤں کا اتفاق اور شہادت کیا حکم رکھتی ہے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں مسیح کو معراج میں مُردوں میں دیکھ آیا ہوں اور پھر قرآنِ شریف سے وفات ثابت ہے پس آنحضرت کا فعل اور خدا کا قول دونوں سے وفات ثابت ہے یحیٰیؑ تو مَر چکے ہیں ان کے ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ کو دیکھا ہے پس اتنی دیر تک جو مُردہ کے پاس بیٹھا رہا وہ کیسے زندہ ہوسکتا ہے علاوہ ازیں خدا فر ماتا ہے کہ بِلانظیر کے کوئی بات قبول نہ کرو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے لیے اس نے نظائر پیش کئے مسیح کی حیات کے لیے بھی کوئی نظیر ہونی چاہیے تھی۔