ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 78

خدا کے وعدے برحق ہیں ایک عقلمند بیشک گھبراہٹ میں پڑتا ہے کہ صلیبی فتنے اور کارروائیاں حددرجہ تک ترقی کر چکی ہیں ان کی کتابیں دور دورتک پھیل گئی ہیں۔مجموعی حالت میں ان کی جان توڑ کوششوں کو دیکھا جاتا ہے تو ناامیدی ہو جاتی ہے کہ الٰہی ان کا استیصال کیسے ہوگا اور صفحہ زمین پر توحید کیسے پھیلے گی۔کل اسباب اسلام کے ضعف کے موجود ہیں اور صلیب کا زور ہے مگر ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور اس کا ارادہ ہو کر رہتا ہے اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ(البقرۃ:۱۰۷) صرف ایک ہی بات ہے جو بھروسہ دلاتی ہے اگرچہ کیسے ہی مشکلات آپڑیں اور عقل فتوے دیوے کہ اب اسلام دوبارہ قائم نہیں ہوسکتا لیکن میں اس بات کو نہیں مانتا۔جب خدا ارادہ کرتا ہے تو کرکے رہتا ہے اس قسم کی رائیں ہمیشہ ہوتی رہتی ہیں اور غلط بھی ثابت ہو رہی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس زمانہ میں مبعوث ہوئے کیا ان کی نسبت اہل الرائے کی یہ رائے تھی کون تھا جو یقین کرتا کہ ایک غریب (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس نہ قوت، نہ شوکت، نہ فوج، نہ مال ہے اور ہر طرف مخالفت ہے وہ کامیاب ہو کر رہے گا اور جو وعدے فتح اور نصرت اور اقبال مندی کے وہ دیتا ہے پورے ہو کر رہیں گے مگر باوجود اس نا امیدی کے پھر کیسی امید بند ھ گئی اور تمام وعدے پورے ہوگئے۔اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ(المائدۃ:۴) کی گواہی مل گئی اور پھر اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ(النصـر:۲) کی سورۃ نازل ہوئی ایسے ہی ممکن ہے کہ کوئی ہماری جماعت کا یہ خیال کر بیٹھے کہ اس صلیبی جال کا ٹوٹنا محال ہے مگر میں سنا تا ہوں کہ خدا سب کچھ کرسکتا ہے ابھی اس کے پاس بہت سی راہیں ہوں گی جن سے یہ فتنہ مٹے گا اور ان کا ہمیں علم نہیں۔ہمارا اس بات پر ایمان چاہیے کہ اس کے وعدے برحق ہیں اگرتمام اسباب اس کے منافی نظر آویں پھر بھی اس کا وعدہ سچا ہے اگر ایک آدمی بھی ہمارے ساتھ نہ ہو پھر بھی اس کا وعدہ سچا ہے۔وعدہ اس کا کمزور ہوسکتا ہے جس کی قدرت اور اختیار کمزور ہو ہمارے خدا میں کوئی کمزوری نہیں ہے وہ بڑا قادر ہے اور اس کی حرکت جاری ہے ہماری جماعت کو چاہیے کہ اسی ایمان کو ہاتھ میں رکھے۔