ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 74

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک واقعہ لکھا ہے۱ کہ وہ ایک مرتبہ بھاگتے جاتے تھے کسی نے پوچھا کہ کیوں بھاگتے جاتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ جاہلوں سے بھاگتا ہوں۔اس نے کہا ان پروہ اسمِ اعظم۲ کیوں نہیں پھونکتے انہوں نے کہا کہ وہ اسم اعظم بھی ان پر اثر نہیں کرتا۔حقیقت میں جہالت بھی ایک خطرناک موت ہے مگر یہاں تو سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیسا جہل ہے قرآن پڑھتے ہیں، تفسیر یں کرتے ہیں، حدیث کی سند رکھتے ہیں مگر جب ہم پیش کرتے ہیں تو انکار کر جاتے ہیں یہ نہ خود مانتے ہیں اور نہ اَوروں کو ماننے دیتے ہیں۔یہ زمانہ ایسا آگیا ہے کہ انسان کی ہستی کی غرض وغایت کو بالکل بھلا دیا گیا ہے خود خدا انسانی خِلقت کی غرض تو یہ بتا تا ہے وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (الذّٰریٰت:۵۷) مگر آج عبودیت سے نکل کر نادان انسان خود خدا بننا چاہتا ہے اور وہ صدق و وفا، راستی اور تقویٰ جس کو خدا چاہتا ہے مفقود ہے بازار میں کھڑے ہو کر اگر نظر کی جاوے تو صدہا آدمی اِدھر سے آتے اُدھر چلے جاتے ہیں لیکن ان کی غرض اور مقصد محض دنیا ہے۔خدا تعالیٰ کی خاطر امورِدنیا کی بجاآوری خدا تعالیٰ اس سے تومنع نہیں کرتا کہ انسان دنیا میں کام نہ کرے۔۳ مگر بات یہ ہے کہ دنیا کے لئے نہ کرے بلکہ دین کے لیے کرے تو وہ موجب برکات ہو جاتا ہے مثلاً خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ بیویوں سے نیک سلوک کرو عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ(النّسآء:۲۰) لیکن اگر انسان محض اپنی ذاتی اور نفسانی اغراض کی بنا پر وہ سلوک کرتا ہے تو فضول ہے اور وہی سلوک اگر اس حکمِ الٰہی کے واسطے ہے تومو جب برکات۔میں دیکھتا ہوں کہ لوگ جوکچھ کرتے ہیں وہ محض دنیا کے لیے کرتے ہیں محبت دنیا ان سے کراتی ہے خدا کے واسطے نہیں کرتے اگراولاد کی خواہش کرے تواس نیت سے کرے وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا(الفرقان:۷۵) پر نظر کرکے کرے کہ کوئی ایسا بچہ پیدا ہو جائے جو اعلائے کلمۃُ الاسلام کا ذریعہ ہو جب ایسی پاک خواہش ہو تو اللہ تعالیٰ قادر ۱ البدر سے۔’’ اور اس کے ان کاموں کا ثواب اسے ویسا ہی ملتا ہے جیسے نماز کا ثواب۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۱۰مورخہ ۸؍ مارچ ۱۹۰۴ءصفحہ۳)