ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 353 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 353

اس قسم کے مشکلات ان لوگوں کو کیوں پیش آئے؟ اس کی وجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں پر غور نہیں کیا اور ظاہر الفاظ پر اَڑے رہے۔اسی قسم کے مشکلات اس وقت مسلمانوں کو پیش آئے ہیں لیکن اگر غور کیا جاوے تو ان کے سامنے تو کوئی نظیر اور فیصلہ موجود نہ تھا لیکن ان کے سامنے تو دوبارہ آنے کا مقدمہ فیصل شدہ موجود ہے جو خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عدالت سے فیصل ہو چکا ہے۔انہوں نے تاویل کر کے بتا دیا تھا کہ دوبارہ آنے والے شخص سے مراد وہی نہیں ہوتا۔پھر کس قدر افسوس ہے ان پر کہ یہ اس فیصلہ سے فائدہ نہیں اٹھاتے لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ حُـجْرٍ وَّاحِدٍ مَّرَّتَیْنِ۔یہودیوں کو جس پتھر سے ٹھوکر لگی اور وہ لعنتی ہوگئے اسی پتھر سے یہ ٹھوکر کھاتے ہیں۔یہودی اس وقت دنیا میں موجود ہیں۔ان کی کتابیں موجود ہیں۔ان سے دریافت کر لو کہ کیا ان کا یہ عقیدہ تھا یا نہیں کہ مسیح سے پہلے الیاس آئے گا اور ملاکی نبی کی کتاب میں یہ پیشگوئی درج ہے یا نہیں؟ اور پھر عیسائیوں سے پوچھو اور انجیل میں اس فیصلہ کو پڑھو جو مسیح نے خود کیا ہے۔مومن تو دوسرے کی مصیبت سے عبرت پکڑتا ہے لیکن ان مسلمانوں نے اس سے کیا سبق سیکھا؟ یہودی عقیدہ ہے جس کی وجہ سے یہودی واصل جہنم ہوئے اب کیا یہ بھی یہی چاہتے ہیں؟ میں حیران ہوتا ہوں کہ ان عقلوں کو کیا ہوگیا؟ اگر حضرت مسیح کا وہ فیصلہ جو انہوں نے الیاس کے دوبارہ آنے کے متعلق کیا ہے صحیح نہیں ہے تو پھر مجھے جواب دیں کہ حضرت مسیح سچے پیغمبر کیوںکر ہو سکتے ہیں؟ کیونکہ اس میں تو کوئی کلام اور شبہ ہی نہیں کہ ان کے آنے سے پیشتر ایلیا کا آنا ضروری تھا اور ایلیا آسمان سے نہیں آیا۔پھر حضرت مسیحؑکیوںکر سچے نبی ٹھہریں گے؟ اس عقیدہ فاسدہ سے یہی نہیں کہ یہودیوںکی طرح حضرت عیسٰیؑ کی رسالت سے انکار کرنا پڑے گا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت بھی معاذ اللہ ہاتھ سے جائے گی کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آمد اور بعثت حضرت مسیحؑکے بعد ہے اور جب ابھی تک مسیحؑبھی نہیں آیا تو پھر اسلام کیوںکر صحیح ہوگا؟ سوچو اور غور کرو کہ تمہاری ذرا سی ٹھوکر کا اثر کہاں تک پہنچتا ہے