ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 340

چال چلن کا عمدہ نمونہ دکھاوے وہ قرآن شریف کی تعلیم پر سچی عامل ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع میں فنا ہوجاوے۔ان میں باہم کسی قسم کا بُغض و کینہ نہ رہے۔وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ پوری اور سچی محبت کرنے والی جماعت ہو۔لیکن اگر کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہو کر بھی اس غرض کو پورا نہیں کرتا اور سچی تبدیلی اپنے اعمال سے نہیں دکھاتا وہ یاد رکھے کہ دشمنوں کی اس مراد کو پورا کر دے گا۔وہ یقیناً ان کے سامنے تباہ ہوجاوے گا۔خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کا رشتہ نہیں اور وہ کسی کی پروا نہیں کرتا۔وہ اولاد جو انبیاء کی اولاد کہلاتی تھی یعنی بنی اسرائیل جن میں کثرت سے نبی اور رسول آئے اور خدا تعالیٰ کے عظیم الشّان فضلوں کے وہ وارث اور حقدار ٹھہرائے گئے تھے لیکن جب اس کی روحانی حالت بگڑی اور اس نے راہِ مستقیم کو چھوڑ دیا۔سر کشی اور فسق و فجور کو اختیار کیا۔نتیجہ کیا ہوا؟ وہ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ ( البقرۃ: ۶۲) کی مصداق ہوئی۔خدا تعالیٰ کا غضب ان پر ٹوٹ پڑا اور ان کا نام سؤر اور بندر رکھا گیا۔یہاں تک وہ گر گئے کہ انسانیت سے بھی ان کو خارج کیا گیا۔یہ کس قدر عبرت کا مقام ہے۔بنی اسرائیل کی حالت ہر وقت ایک مفید سبق ہے۔اسی طرح یہ قوم جس کو خدا نے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے وہ قوم ہے کہ خدا تعالیٰ اس پر بڑے بڑے فضل کرے گا لیکن اگر کوئی اس جماعت میں داخل ہو کر خدا تعالیٰ سے سچی محبت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور کامل اتباع نہیں کرتا وہ چھوٹا ہو یا بڑا کاٹ ڈالا جائے گا اور خدا تعالیٰ کے غضب کا نشانہ ہوگا۔پس تمہیں چاہیے کہ کامل تبدیلی کرو اور جماعت کو بد نام کرنے والے نہ ٹھہرو۔خاندانی تفاخر بعض نادان ایسے بھی ہیں جو ذاتوں کی طرف جاتے ہیں اور اپنی ذات پر بڑا تکبّر اور ناز کرتے ہیں۔بنی اسرائیل کی ذات کیا کم تھی؟ جن میں نبی اور رسول آتے تھے لیکن کیا ان کی اس اعلیٰ ذات کا کوئی لحاظ خدا تعالیٰ کے حضور ہوا جب اس کی حالت بدل گئی۔ابھی میں نے کہا ہے کہ ان کا نام سؤر اور بندر رکھا گیا اور اسے اس طرح پر انسانیت کے دائرہ سے خارج کر دیا۔میں نے دیکھا ہے کہ بہت لوگوں کو یہ مرض لگا ہوا ہے خصوصاً سادات اس مرض میں بہت مبتلا ہیں کہ وہ دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں اور اپنی ذات پر ناز کرتے ہیں۔میں سچ سچ کہتا ہوں