ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 325 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 325

کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک اخبار والے نے لکھا ہے کہ مکہ مدینہ والے بھی یہ نظارہ دیکھ لیں گے کہ اونٹوں کی قطاروں کی بجائے ریل گاڑی وہاں چلے گی۔قرآن شریف میں جو فرمایا وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ (التّکویر:۵) اس کے متعلق نواب صدیق حسن خاں نے لکھا ہے کہ عشار حاملہ اونٹنی کو کہتے ہیں اس لیے یہ لفظ اللہ تعالیٰ نے اختیار فرمایا تاکہ یہ سمجھ آجاوے کہ اسی دنیا کے متعلق ہے کیونکہ حاملہ ہونا تو اسی دنیا میں ہوتا ہے۔اسی طرح نہروں کا نکالے جانا۔چھاپے خانوں کی کثرت اور اشاعت کتب کے ذریعوں کا عام ہونا اس قسم کے بہت سے نشان ہیں جو اس زمانہ سے مخصوص تھے اور وہ پورے ہوگئے ہیں۔ایسا ہی کسوف و خسوف کا نشان جو رمضان میں ہوا یہ حدیث اکمال الدین اور دار قطنی میں موجود ہے۔پھر حج کا بند ہونا بھی نشان تھا وہ بھی پورا ہوا۔ایک ستارہ نکلنے کی نشانی تھی وہ بھی نکل چکا۔طاعون کا نشان تھا وہ بھی پورا ہوگیا۔غرض میں کہاں تک بیان کرتا جاؤں یہ ایک لمبا سلسلہ ہے۔طالب حق کے لیے اسی قدر کافی ہے۔پھر تیسرا ذریعہ عقل ہے اگر عقل سے کام لیا جاوے اور زمانہ کی حالت پر نظر کی جاوے تو صاف طور پر ضرورت نظر آتی ہے۔غور سے دیکھو اسلام کی حالت کیسی کمزور ہوگئی ہے۔اندرونی طور پر تقویٰ طہارت اٹھ گئی ہے۔اوامر و احکامِ الٰہی کی بے حرمتی کی جاتی ہے اور ارکانِ اسلام کو ہنسی میں اڑایا جاتا ہے اور بیرونی طور پر یہ حالت ہے کہ ہر قسم کے معترض اس پر حملہ کر رہے ہیں اور اپنی جگہ کوشش کرتے ہیں کہ اس کا نام و نشان مٹا دیں۔غرض جس پہلو سے دیکھو اسلام کمزور ہوگیا ہے۔وہ اسلام جس میں ایک بھی مرتد ہوجاتا تو قیامت آجاتی اس میں تیس لاکھ آدمی مرتد ہوچکا ہے۔کیا ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ اِنَّانَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(الـحجر:۱۰) پورا نہ ہوتا؟ اگر اب اسلام کی خبر نہ لی جاتی تو پھر اور کون سا وقت آنے والا تھا؟