ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 324 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 324

دوم۔نشانات کے ذریعہ جو اس کی تائید میں اور اس کے لیے ظاہر کیے جاتے ہیں۔سوم۔عقل کے ذریعہ۔بعض اوقات یہ تینوں ذریعے جمع ہوجاتے ہیں اور اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ سب ذریعے میری سچائی کو ثابت کر رہے ہیں۔پس نصوص کے لیے یاد رکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بخاری اور مسلم میں جس آنے والے کی خبر دی ہے اس کے لیے یہی فرمایا ہے کہ وہ اسی اُمّت میں سے ہوگا۔چنانچہ بخاری اور مسلم میں مِنْكُمْ کا لفظ موجود ہے کہیں بھی نہیں فرمایا کہ مِنْ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اور قرآن شریف میں سورۂ نور میں استخلاف کے وعدہ میں بھی مِنْكُمْ ہی فرمایا ہے۔اب بتاؤ کہ قرآن اور حدیث کے نصوص آنے والے کو اسی اُمّت سے ٹھہراتے ہیں یا باہر سے لاتے ہیں اور قرآن شریف یہی زمانہ مسیح موعود کے آنے کا ٹھہراتا ہے۔دوم نشانات۔وہ نشانات جو میری تائید میں ظاہر ہو چکےہیں اور جو میرے ہاتھ پر پورے ہوئے ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان کے زندہ گواہ اس وقت لاکھوں انسان موجود ہیں۔میں نے اپنی کتاب نزول المسیح میں ڈیڑھ سو کے قریب نشان لکھے ہیں اور بعض کا میں نے ابھی ذکر بھی کیا ہے تاہم وہ نشان جو میرے لیے ظاہر ہوئے وہ بھی تھوڑے نہیں ہیں اور انسانی طاقت میں یہ نہیں کہ وہ ان باتوں کو اپنے لیے خود جمع کر لے۔قرآن شریف سے ثابت ہے کہ مسیح موعود اس وقت آئے گا جب چھ ہزار سال کا دور ختم ہوگا اور عیسائیوں اور یہودیوں کے نزدیک وہ وقت آگیا ہے۔پھر قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے اور احادیثِ صحیحہ اس کی تصدیق کرتی ہیں کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایک نئی سواری پیدا ہوگی جس سے اونٹ بیکار ہوجائیں گے۔جب کہ قرآن شریف میں ہے وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ(التّکویر:۵) اور حدیث صحیح میں ہے وَلَیُتْرَکَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا یُسْعٰی عَلَیْہَا۔اب آپ لوگ جانتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان بھی ریل تیار ہو رہی ہے۔اس عظیم الشان پیشگوئی