ملفوظات (جلد 6) — Page 317
غرض اس قسم کے بہت سے الہامات ہیں جو نہ صرف عربی زبان میں ہوئے بلکہ فارسی میں ہوئے اردو میں ہوئے اور انگریزی میں بھی ہوئے جس کو میں جانتا بھی نہیں اور ایک لمبا سلسلہ ان الہامات اور پیشگوئیوںکا چلا گیا ہے اور جہاں براہین ختم ہوتی ہے وہاں یہ الہام ہوا۔دنیامیں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔مجھے حیرت آتی ہے جب میں ان لوگوں کے منہ سے سنتا ہوں کہ کوئی نشان دکھاؤ۔ان نشانات پر وہ غور نہیں کرتے اور ان کو حقیر سمجھتے ہیں افسوس! اور اَور نشان مانگتے ہیں۔میں یقین کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ قادر ہے۔وہ نشان پر نشان دکھا رہا ہے لیکن یہ دانشمندی اور تقویٰ کا طریق نہیں ہے کہ پہلے نشانوں کو چھوڑ دیا جائے۔ان نشانوں کو سرسری نظر سے نہ دیکھو۔مولوی محمد حسین صاحب وہ شخص ہیں کہ ان سے بڑھ کر کسی نے عداوت کا نمبر نہیں لیا۔انہوں نے بنارس تک پھر کر کفر کا فتویٰ حاصل کیا۔اور ہر قسم کی مخالفت میں انہوں نے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا اور کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اب باوجود اس مخالفت کے اس کو قسم دے کر پوچھو کہ جب تم نے براہین احمدیہ پر ریویو لکھا اور یہ پیشگوئیاں اور نشان اس میں موجود تھے اس وقت ہمارا کیا حال تھا۔کہاں تک میری شہرت تھی اور کس قدر لوگوں کو تعلق تھا۔اور کیا اب ان الہامات کے موافق یہ نشانات جو پورے ہوئے ہیں آپ بنائے گئے ہیں؟ اس وقت موجود تھے یا نہیں؟ اور انہوں نے پڑھے تھے یا نہیں؟ اگر پڑھے تھے تو پھر سچ سچ کہو کہ ایسے زمانہ میں جب یہ دعا سکھاتا ہے رَبِّ لَا تَذَرْنِيْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ اور اس میں آپ گواہی دیتا ہے کہ میں اکیلا ہوں۔وہ الہامات جو جماعت کی ترقی اور میری قبولیت کے متعلق ہیں عظیم الشان نشان ہیں یا نہیں؟ اگر تعصّب اور سخت دل مانع نہ ہو تو اقرار کرنا پڑے گا۔پھر اسی براہین میں یہ بھی موجود ہے کہ علماء ممانعت کریں گے کہ ترقی نہ ہو لیکن میں ترقی دوں گا۔اور پھر سب لوگ جانتے ہیں اور ہر روز دیکھتے ہیں کہ کس قدر مخالفت ہو رہی ہے اور کیا اس مخالفت سے یہ سلسلہ رک گیا یا اس نے ترقی کی؟ اگر کوئی ایسی نظیر دنیا میں موجود ہے اور کوئی شخص