ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 316

دعویٰ آج نہیں ہوا ہے بلکہ چوبیس سال سے میں دعویٰ کر رہا ہوں کہ خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے اور اس نے مجھے مامور کیا ہے۔انسانی گورنمنٹ میں اگر کوئی شخص جھوٹا ملازم سرکار بنے تو وہ فوراً پکڑا جاتا ہے اور سزا پاتا ہے۔تو یہ کیسا اندھیر ہے کہ خدا تعالیٰ کی گورنمنٹ میں ایک شخص مامور ہونے کا مدّعی ہے اور بجائے اس کے کہ وہ پکڑا جاتا اور تباہ کیا جاتا اسے ترقی مل رہی ہے۔کوئی بتاوے کیا جھوٹوں کے ساتھ ایسا معاملہ ہوتا ہے۔براہین احمدیہ چھپی ہوئی موجود ہے۔اس شہر میں اس کے بہت سے نسخے ہوں گے۔اس کو پڑھو اور دیکھو کہ جو کچھ اس میں درج ہے کیا آج بہت سی باتیں ان میں سے پوری نہیں ہو چکیں؟ اور کیا کوئی منصوبہ باز کر سکتا ہے کہ اس قدر عرصہ دراز پہلے جبکہ اپنی زندگی کا بھی اعتبار نہیں ہوتا ایک بات کہے اور پھر اتنے عرصہ کے بعد جس میں ایک بچہ پیدا ہو کر بھی صاحبِ اولاد ہو سکتا ہے وہ پوری ہو جاوے۔میں جانتا ہوں کہ اسی شہر میں ایسے لوگ بھی ہیں جو جانتے ہیں کہ اس زمانہ میں مجھے جاننے والے کتنے تھے۔میں سچ کہتا ہوں کہ میں ایک گمنامی کی حالت میں تھا۔سال بھر میں بھی کبھی ایک خط نہ آتا تھا لیکن اس گمنامی کے زمانہ میں علیم و خبیر خدا نے مجھے خبر دی جو براہین احمدیہ میں موجود ہے کہ ایک زمانہ آنے والا ہے جبکہ فوج در فوج لوگ تیرے پاس آئیں گے۔میں لوگوں کو کھینچ کھینچ کر لاؤں گا اور مالی نصرتیں بھی آئیں گی اور دنیا میں تیری شہرت ہو جائے گی جیسے لکھا ہے فَـحَانَ اَنْ تُعَانَ وَ تُعْرَفَ بَیْنَ النَّاسِ اور پھر فرمایا یَاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ اور یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ۔اور پھر فرمایا لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَسْئَمْ مِنَ النَّاسِ یعنی اب وقت آگیا ہے کہ تُو لوگوں میں شناخت کیا جاوے اور تیری مدد کی جاوے۔تیرے پاس دور دور راہوں سے لوگ آئیں گے اور دور دراز جگہوں سے تجھے تحائف اور مالی نصرتیں آئیں گی۔اور پھر فرمایا کہ تیرے پاس کثرت سے مخلوق آئے گی اس لیے تو تحمل سے ان کو قبول کرنا اور ان کی کثرت سے تھک نہ جانا۔