ملفوظات (جلد 6) — Page 300
ضرورت تھی وہ تو تیرہ سو برس گذرے کہ خاک میں دفن ہو اور آپؐ۶۳ برس کی عمر میں فوت ہو جاویں اور مسیح اب تک آسمان پر۔کوئی بتلادے کہ وہاںکیا کر رہا ہے۔اس کا وعدہ تھا کہ میں بنی اسرائیل کی طرف آیا ہوں اور کتنی قومیں بنی اسرائیل کی باقی تھیں کہ آسمان پر جا بیٹھا اور وعدہ بھی پورا نہ کیا اور پھر عقل، نقل اور کتاب اللہ کے برخلاف ہے۔یہ سب دلائل ہیں جو کہ ایک مومن کے لیے کافی ہیں اور بجز اس کے کہ عیسیٰ کو فوت شدہ مانا جاوے اور کوئی ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت کو محفوظ رکھنے کا نہیں ہے میں تو اس شخص سے بہت خوش ہوں کہ جس نے کتاب حیاتُ النّبی لکھی ہے اور اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ جو شخص سوائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی اور پیغمبر کو زندہ کہے وہ کافر ہے کیونکہ آخر محبت کی کچھ بھی تو علامت چاہیے۔بعض نئے نئے لوگوں نے جو عیسائیوں میں سے اسلام میں داخل ہوئے حضرت عمرؓ کو یہ بات کہی ہوگی کہ عیسیٰ اب تک زندہ ہے تب ہی تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ہرگز یہ باور نہ کیا کہ آپ فوت ہوگئے بلکہ ایسا کہنے والے کو قتل کرنے کے لیے آمادہ ہوئے۔آخر جب حضرت ابوبکرؓ نے آکر اس مسئلہ کو حل کیا کہ سب نبی فوت ہوگئے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی فوت ہوئے تب ان کو اعتبار آیا۔اب عیسائیت کا اثر غالب آگیا ہے اور جو محبت مسلمانوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چاہیے تھی وہ نہیں رہی۔ہزاروں رسالے اور اخبار نکالتے ہیں لیکن کسی نے آج تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کا رسالہ نہ نکالا۔پس اب خدا چاہتا ہے کہ آپؐکی عزّت کو دنیا میں قائم کرے۔کئی کروڑ کتب اسلام کے ردّ میں لکھی گئیں کیا اب بھی خدا کو لازم نہ تھا کہ کوئی ذریعہ قائم کر کے آپؐکی عزّت کو ظاہر کرے۔ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نبی مانتے ہیں اور سب سے اشرف جانتے ہیں اور ہرگز گوارا نہیں کرتے کہ کوئی عمدہ بات کسی اور کی طرف منسوب کی جاوے۔جب کفار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی معجزہ طلب کیا کہ آسمان پر چڑھ کر دکھا دیں تو آپؐنے فرمایا سُبْحَانَ رَبِّيْ اور انکار کر دیا۔دوسری طرف حضرت مسیح کو خدا آسمان پر لے جاوے، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ہم قرآن سے کیا بلکہ کل کتابوں سے دکھا سکتے ہیں کہ جس قدر اخلاق اور خوبیاں کُل انبیاء میں تھیں وہ سب کی سب