ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 299

اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہوگا اور ان لوگوں سے وہ خود سمجھ لیوے گا۔وہ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ( النـحل:۱۲۹) اور خوب یاد رکھو کہ اگر تقویٰ اختیار نہ کرو گے اور اس نیکی سے جسے خدا چاہتا ہے کثیر حصّہ نہ لو گے تو اللہ تعالیٰ سب سے اوّل تم ہی کو ہلاک کرے گا کیونکہ تم نے ایک سچائی کو مانا ہے اور پھر عملی طور سے اس کے منکر ہوتے ہو۔اس بات پر ہرگز بھروسہ نہ کرو اور مغرور مت ہو کہ بیعت کر لی۔جب تک پورا تقویٰ نہ اختیار کرو گے ہرگز نہ بچو گے۔خدا کا کسی سے رشتہ نہیں نہ اس کو کسی کی رعایت منظور ہے۔جو ہمارے مخالف ہیں وہ بھی اسی کی پیدائش ہیں اور تم بھی اسی کی مخلوق ہو۔صرف اعتقادی بات ہرگز کام نہ آوے گی جب تک تمہارا قول اور فعل ایک نہ ہو۔ان لوگوں کی حالتوں پر غور کرو کہ جب توفّی کا لفظ مسیح کے لیے آوے تو اس کے معنے آسمان پر جانے کے کرتےہیں۔اور جب وہی لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال ہو تو اس کے معنے وفات پانے کے کرتے ہیں۔پس خدا چاہتا ہے کہ عملی راستی دکھاؤ تا وہ تمہارے ساتھ ہو۔رحم، اخلاق، احسان، اعمالِ حسنہ، ہمدردی اور فروتنی میں اگر کمی رکھو گے تو مجھے معلوم ہے اور بار بار میں بتلا چکا ہوں کہ سب سے اوّل ایسی ہی جماعت ہلاک ہوگی۔موسیٰ علیہ السلام کے وقت جب اس کی اُمّت نے خدا کے حکموں کی قدر نہ کی تو باوجودیکہ موسیٰ ان میں موجود تھا مگر پھر بھی بجلی سے ہلاک کئے گئے۔پس اگر تم بھی ویسے کرو گے تو میری موجودگی کچھ کام نہ آوے گی۔اب ہم ان لوگوں کو کہاں تک سمجھائیں۔بہت سی کتابیں چھپ چکی ہیں اور ان کے لیے کافی اتمامِ حجت ہو چکا ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام پر توفّی کا استعمال کریں تو اس کے معنے موت کے ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وہ لفظ آوے تو اس کے معنے موت کے ہوں۔ساحرین موسیٰ کے لیے وہی لفظ آوے تو معنے موت کے ہوں۔لیکن جب مسیح پر بولا جاوے تو اس کے معنے آسمان پر جانا کرتے ہیں۔یہ لوگ خدا کو کیا جواب دیویں گے۔کیا یہی ان کی محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے اور یہ کیسی دلیری اور شوخی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود مبارک جس کی دنیا کو