ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 290 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 290

گھوڑے کی طرح ہوگئے ہیں۔نہ خدا کا خوف رہا ہے نہ آخرت کا یقین ہے۔دنیاوی لذّات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔پس سب سے اوّل ضروری ہے کہ اس آزادی اور بے پردگی سے پہلے مَردوں کی اخلاقی حالت درست کرو اگر یہ درست ہو جاوے اور مَردوں میں کم از کم اس قدر قوت ہو کہ وہ اپنے نفسانی جذبات کے مغلوب نہ ہوسکیں تو اس وقت اس بحث کو چھیڑو کہ آیا پردہ ضروری ہے کہ نہیں۔ورنہ موجودہ حالت میں اس بات پرزور دینا کہ آزادی اور بے پردگی ہو گویا بکریوں کو شیروں کے آگے رکھ دینا ہے۔ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ کسی بات کے نتیجہ پر غور نہیں کرتے۔کم از کم اپنے کانشنس سے ہی کام لیں کہ آیا مَردوں کی حالت ایسی اصلاح شدہ ہے کہ عورتوں کو بے پردہ ان کے سامنے رکھا جاوے۔قرآن شریف نے (جو کہ انسان کی فطرت کے تقاضوں اورکمزوریوں کو مدّ ِنظر رکھ کر حسبِ حال تعلیم دیتا ہے) کیا عمدہ مسلک اختیار کیا ہے قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ يَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ(النّور:۳۱) کہ تو ایمان والوں کو کہہ دے کہ وہ اپنی نگاہیں کو نیچا رکھیں اور اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں۔یہ وہ عمل ہے جس سے ان کے نفوس کا تزکیہ ہوگا۔فروج سے مراد شرمگاہ ہی نہیں بلکہ ہر ایک سوراخ جس میں کان وغیرہ بھی شامل ہیں اور اس میں اس اَمر کی مخالفت کی گئی ہے کہ غیر محرم عورت کا راگ وغیرہ سنا جاوے۔پھر یاد رکھو کہ ہزار در ہزار تجارب سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جن باتوں سے اللہ تعالیٰ روکتا ہے آخر کار انسان کو ان سے رکنا ہی پڑتا ہے۔(تعدّدِ ازواجی اور طلاق کے مسئلہ پر غور کرو۔) ع ہرچہ دانا کند نادان لیک بعد از خرابی بسیار ہمیں افسوس ہے کہ آریہ صاحبان بھی بے پردگی پر زور دیتے ہیں اور قرآن شریف کے احکام کی مخالفت چاہتے ہیں۔حالانکہ اسلام کا یہ بڑا احسان ہندوؤں پر ہے کہ اس نے ان کو تہذیب سکھلائی اور اس کی تعلیم ایسی ہے جس سے مفاسد کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔مثل مشہور ہے۔خر بستہ بہ گرچہ دزد آشنا است یہی حالت مرد اور عورت کے تعلقات کی ہے کہ اگرچہ کچھ ہی کیوں نہ ہو لیکن تاہم فطری