ملفوظات (جلد 6) — Page 261
بِلا تاریخ۱ کوئی نسخہ حکمی نہیں ہمارے گھر مرزا صاحب (عالی جناب مرزا غلام مرتضیٰ خان صاحب مرحوم) پچاس برس تک علاج کرتے رہے۔وہ اس فن طبابت میں بہت مشہور تھے مگر ان کا قول تھا کہ کوئی حکمی نسخہ نہیں ملا۔حقیقت میں انہوں نے سچ فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی ذرّہ جو انسان کے اندر جاتا ہے کوئی اثر نہیں کر سکتا۔حکّام اور برادری سے سلوک ایک شخص نے پوچھا کہ حکّام اور برادری سے کیسا سلوک کریں؟ فرمایا۔ہر ایک سے نیک سلوک کرو۔حکّام کی اطاعت اور وفاداری ہر مسلمان کا فرض ہے۔وہ ہماری حفاظت کرتے ہیں اور ہر قسم کی مذہبی آزادی ہمیں دے رکھی ہے۔میں اس کو بڑی بے ایمانی سمجھتا ہوں کہ گورنمنٹ کی اطاعت اور وفاداری سچے دل سے نہ کی جاوے۔برادری کے حقوق ہیں ان سے بھی نیک سلوک کرنا چاہیے۔البتہ ان باتوں میں جو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے خلاف ہیں ان سے الگ رہنا چاہیے۔ہمارا اصول تو یہ ہے کہ ہر ایک سے نیکی کرو اور خدا تعالیٰ کی کُل مخلوق سے احسان کرو۔قبولیتِ دعا کے آثار جب اللہ تعالیٰ کا فضل قریب آتا ہے تو وہ دعا کی قبولیت کے اسباب پہنچا دیتا ہے۔دل میں ایک رقّت اور سوز و گداز پیدا ہوجاتا ہے، لیکن جب دعا کی قبولیت کا وقت نہیں ہوتا تو دل میں اطمینان اور رجوع پیدا نہیں ہوتا۔طبیعت پر کتنا ہی زور ڈالو مگر طبیعت متوجہ نہیں ہوتی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کبھی خدا تعالیٰ اپنی قضا و قدر منوانا چاہتا ہے اور کبھی دعا قبول کرتا ہے۔اس لیے میں تو جب تک اذنِ الٰہی کے آثار نہ پالوں قبولیت کی کم امید کرتا ۱ ایڈیٹر صاحب الحکم نے ’’پرانی نوٹ بک میں سے کچھ ‘‘ کے زیر عنوان یہ ملفوظات درج کئے ہیں۔ان پر کوئی تاریخ درج نہیں۔معلوم ہوتا ہے مختلف تاریخوں کے ہیں۔(خاکسار مرتّب)