ملفوظات (جلد 6) — Page 260
۲۶؍جولائی ۱۹۰۴ء (بمقام گورداسپور) اکرامِ ضیف اعلیٰ حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مہمان نوازی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اعلیٰ اور زندہ نمونہ ہیں۔جن لوگوں کو کثرت سے آپ کی صحبت میں رہنے کا اتفاق ہوا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ کسی مہمان کو (خواہ وہ سلسلہ میں داخل ہو یا نہ داخل ہو) ذراسی بھی تکلیف حضور کو بے چین کر دیتی ہے۔مخلصین احباب کے لیے تو اور بھی آپ کی روح میں جوش شفقت ہوتا ہے۔اس اَمر کے اظہار کے لیے ہم ذیل کا ایک واقعہ درج کر دیتے ہیں۔میاں ہدایت اللہ صاحب احمدی شاعر لاہور پنجاب جو کہ حضرت اقدس کے ایک عاشق صادق ہیں۔اپنی اس پیرانہ سالی میں بھی چند دنوں سے گورداسپور آئے ہوئے تھے۔آج انہوں نے رخصت چاہی۔جس پر حضرت اقدس نے فرمایاکہ آپ جا کر کیا کریں گے؟ یہاں ہی رہیے اکٹھے چلیں گے۔آپ کا یہاں رہنا باعث برکت ہے اگر کوئی تکلیف ہو تو بتلا دو اس کا انتظام کر دیا جاوے۔پھر اس کے بعد آپ نے عام طور پر جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ چونکہ آدمی بہت ہوتے ہیں اور ممکن ہے کہ کسی کی ضرورت کا علم (اہل عملہ کو) نہ ہو۔اس لیے ہرایک شخص کو چاہیے کہ جس شَے کی اسے ضرورت ہو وہ بِلا تکلّف کہہ دے۔اگر کوئی جان بوجھ کر چھپاتا ہے تو وہ گنہگار ہے۔ہماری جماعت کا اصول ہی بے تکلّفی ہے۔بعد ازیں حضرت اقدس نے میاں ہدایت اللہ صاحب کو خصوصیت سے سید سرور شاہ صاحب کے سپرد کیا کہ ان کی ہر ایک ضرورت کو وہ بہم پہنچاویں۔۱ الحکم جلد ۸ نمبر ۲۵،۲۶ مورخہ ۳۱؍جولائی ،۱۰؍اگست ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۴