ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 244

تو پیش کرو۔میں تو اپنی وحی پر ویسے ہی ایمان لاتا ہوں جیسے کہ قرآن شریف اور توریت کے کلامِ الٰہی ہونے پر۔زیادہ سے زیادہ یہ لوگ امام حسینؓکی فضیلت میں بعض ظنّی احادیث پیش کریں گے اور میں وہ پیش کرتا ہوں کہ جو یقینی ہے اور پھر خدا کا کلام ہے۔بطور تنزل کے میں اگر مان لوں کہ حسینؓکے ساتھ بھی خدا تعالیٰ کا مکالمہ ویسا ہی تھا جیسے کہ میرے ساتھ ہے تو پھر ان کے الہامات کا اور میرے الہامات کا مقابلہ کرو اور دیکھو کہ بڑھ چڑھ کر کس کا کلام ہے۔اور اگر تم میرے الہامات کو ظنّی مانتے ہو تو امام حسینؓکے الہامات تو پہلے ہی سے ظنّی ہیں۔پس دونوں ظنّی الہاموں کا مقابلہ کر کے دیکھ لو۔خدا نے جو مراتب میرے بیان کیے ہیں مثلاً (اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْـزِلَۃِ عَرْشِیْ۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمنْـزِلَۃٍ لَّا یَعْلَمُھَا الْـخَلْقُ۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْـزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدِیْ۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْـزِلَۃِ اَوْلَادِیْ۔اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْکَ) کیا امام حسینؓکے یہی مراتب بیان ہوئے ہیں؟ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں نہ امام حسینؓکا نام لیا اور نہ یزید کا۔اگر ذکر کیا ہے تو زید کا ذکر کیا ہے۔یا بعض مفسروں نے ایک صحابی سجل کا لکھا ہے جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے۔اس طرح سے دو صحابہ کا ذکر قرآن شریف میں ہوا ہے اور جو ہمیں مفتری سمجھتا ہے اورمفتری سمجھ کر پھر یہ اعتراض کرتا ہے تو اوّل وہ ہمارے افترا پر بحث کرے کہ آیا افترا ہے کہ نہیں۔۱، ۲ ۳۰؍جون۱۹۰۴ء (بمقام گورداسپور) طعام اہل کتاب امریکہ اور یورپ کی حیرت انگیز ایجادات کا ذکر ہو رہا تھا۔اسی میں یہ ذکر بھی آگیا کہ دودھ اور شوربا وغیرہ جو کہ ٹینوں میں بند ہو کر ولایت سے آتا ہے البدر جلد ۳ نمبر ۲۲،۲۳ مورخہ ۸،۱۶؍جون ۱۹۰۴ء صفحہ ۳،۴ ۲۔’’شاید کسی کے دل میں یہ سوال پیدا ہو کہ ۲۱؍جون کی ڈائری ۸،۱۶؍جون کے پرچہ میں کیسے شائع ہوگئی تو واضح ہو کہ پرچہ دیر کے بعد شائع ہوا جیسا کہ ایڈیٹر صاحب کی طرف سے ڈائری کے آخر میں یہ نوٹ موجود ہے۔’’کاتب کی مشکلات بدستور موجود ہونے کی وجہ سے اخبار میں دیر ہو رہی ہے ان مشکلات کو اپنی ذاتی مشکلات جان کر امید ہے کہ ناظرین رنجیدہ خاطر نہ ہوں گے۔‘‘(خاکسار مرتّب)