ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 243

وہ ہم پر اعتراض کرے لیکن اگر کوئی بیعت کر کے دعویٰ کی تصدیق کرتا ہے کہ میں ہی سچا ہوں تو وہ پھر اعتراض کیوں کرتا ہے۔(اسے چاہیے تھا کہ بیعت سے پیشتر اس بات کا اطمینان حاصل کرتا کہ آیا آپ سچے ہیں کہ نہیں) اس قسم کے معترضین سے سوال کرنا چاہیے کہ جس مسیح کے وہ منتظر ہیں آیا وہ ان کے نزدیک از روئے اعتقاد حسینؓسے افضل ہے کہ نہیں؟ اگر وہ اسے افضل قبول کرتا ہے تو پھر ہم تو کہتے ہیں کہ ہم وہی ہیں پہلے ہمارا وہی ہونا فیصلہ کرے پھر اعتراض خود بخود رفع ہو جاوے گا۔یاد رکھو کہ خدا کے فیوض بے انتہا ہیں جو ان کو محدود کرتا ہے وہ اصل میں خدا کو محدود کرتا ہے اور اس کی کلام کو عبث قرار دیتا ہے۔وہی بتلاوے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ(الفاتـحۃ:۶،۷) میں جب وہ انہیں کمالات اور انعامات کو طلب کرتا ہے جو کہ سابقین پر ہوئے تو اب ان کومحدود کیسے مانتا ہے اگر وہ محدود ہیں اور بقول شیعہ بارہ امام تک ہی رہے تو پھر سورۃ فاتحہ کو نماز میں کیوں پڑھتا ہے۔وہ تو اس کے عقیدہ کے خلاف تعلیم کر رہی ہے اور خدا کو ملزم گردانتی ہے کہ ایک طرف تو وہ خود ہی کمالات کو بارہ امام تک ختم کرتا ہے اور پھر لوگوںکو قیامت تک ان کے طلب کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔دیکھو مایوس ہونا مومن کی شان نہیں ہوتی اور ترقیات اور مراتب قرب کی کوئی حد بست نہیں ہے۔یہ بڑی غلطی ہے کہ کسی فرد خاص پر ایک بات قائم کر دی جاوے۔خدا تعالیٰ نے جیسا خاص طور پر ذکر کر دیا اور احادیث میں آگیا کہ فلاں زمانہ میں مسیح موعود ہوگا اور اس کی علامات، اس کا کام، اس کے حالات سب بتلا دیئے تو اب ہم سے یہ سوال کیوں ہوتا ہے کہ تم حسینؓ سے افضل کیوں بنتے ہو۔کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں فرمایا ہے کہ مسیح موعود حسینؓ سے افضل نہ ہوگا بلکہ کمتر ہوگا۔ایسے معترضوں کو تم یہ جواب دو کہ ہم تو مسیح موعود مان چکے ہیں۔اب تم اس اَمر کا ثبوت دو کہ آیا وہ امام حسینؓ سے کم ہوگا یا برابر یا افضل بجز توہمات کے ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔جیسے ایک لاہوری شیعہ نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر کُل انبیاء نے صرف حسینؓ کی وجہ سے ہی نجات پائی ہے۔خدا تعالیٰ کا جو معاملہ میرے ساتھ ہے اور وہ میرے ساتھ کلام کرتا ہے ایسا کوئی الہام حسینؓ کا