ملفوظات (جلد 6) — Page 231
ہے کہ اِنَّـمَا الْاَعْـمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔انسان کے ہر عمل کا مدار اس کی نیت پر ہے۔کسی کےدل کو چیر کر ہم نہیں دیکھ سکتے۔اگر کسی کی یہ نیت نہیں ہے کہ زیادہ بیویاں کر کے عورتوں کی لذّات میں فنا ہو بلکہ یہ ہے کہ اس سے خادمِ دین پیدا ہوں تو کیا حرج ہے لیکن یہ اَمر بھی مشروط بشرائط بالا ہے۔مثلاً اگر ایک شخص کی چار بیویاں ہوں اور ہر سال ہر ایک سے ایک ایک اولاد ہو تو چار سال میں سولہ بچے ہوں گے مگر بات یہ ہے کہ لوگ دوسرے پہلو کو ترک کر دیتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ صرف ایک پہلو پر ہی زور دیا جاوے حالانکہ ہمارا یہ منصب ہرگز نہیں ہے۔قرآن شریف میں متفرق طور پر تقویٰ کا ذکر آیا ہے۔لیکن جہاں کہیں بیویوں کا ذکر ہے وہاں ضرور ہی تقویٰ کا بھی ذکر ہے۔ادائیگی حقوق ایک بڑی ضروری شَے ہے اسی لیے عدل کی تاکید ہے۔اگر ایک شخص دیکھتا ہے کہ وہ حقوق کو ادا نہیں کر سکتا یا اس کی رجولیت کے قویٰ کمزور ہیں یا خطرہ ہو کہ کسی بیماری میں مبتلا ہوجائے تو اسے چاہیے کہ دیدۂ ودانستہ اپنے آپ کو عذاب میں نہ ڈالے۔تقویٰ یعنی شرعی ضرورت جو اپنے محل پر ہو اگر موجود ہو تو پہلی بیوی خود تجویز کرتی ہے کہ خاوند اور نکاح کر لے۔آخری نصیحت ہماری یہی ہے کہ اسلام کو اپنی عیاشیوں کے لیے سِپَر نہ بناؤ کہ آج ایک حسین عورت نظر آئی تو اسے کر لیا۔کل اور نظر آئی تو اسے کر لیا۔یہ تو گویا خدا کی گدی پر عورتوں کو بٹھانا اور اسے بھلا دینا ہوا۔دین تو چاہتا ہے کہ کوئی زخم دل پر ایسا رہے جس سے ہر وقت خدا تعالیٰ یاد آوے ورنہ سلبِ ایمان کا خطرہ ہے۔اگر صحابہ کرامؓ عورتیں کرنے والے اور انہیں میں مصروف رہنے والے ہوتے تو اپنے سر جنگوں میں کیوں کٹواتے حالانکہ ان کا یہ حال تھا کہ ایک کی انگلی کٹ گئی تو اسے مخاطب ہو کے کہا کہ تو ایک انگلی ہی ہے اگر کٹ گئی تو کیا ہوا مگر جو شب و روز عیش و عشرت میں مستغرق ہے وہ کب ایسا دل لا سکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں میں اس قدر روتے اور قیام کرتے کہ آپؐکے پاؤں پر ورم ہو جاتا۔صحابہؓ نے عرض کی کہ خدا تعالیٰ نے آپؐکے تمام گناہ بخش دیئے ہیں پھر اس قدر مشقّت اور رونے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا۔کیا میں خدا کا شکر گذار بندہ نہ ہوں۔۱ البدر جلد ۳ نمبر ۲۶ مورخہ ۸؍جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۲،۳