ملفوظات (جلد 6) — Page 230
گناہ نہیں بلکہ شہوات کا کھلے طور پر دل میں پڑ جانا گناہ ہے۔دنیاوی تمتع کا حصّہ انسانی زندگی میں بہت ہی کم ہونا چاہیے تاکہ فَلْيَضْحَكُوْا قَلِيْلًا وَّ لْيَبْكُوْا كَثِيْرًا (التوبۃ:۸۲)یعنی ہنسو تھوڑا اور روؤ بہت کا مصداق بنو لیکن جس شخص کی دنیاوی تمتع کثرت سے ہیں اور وہ رات دن بیویوں میں مصروف ہے۔اس کو رقّت اور رونا کب نصیب ہوگا۔اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ ایک خیال کی تائید اور اتباع میں تمام سامان کرتے ہیں اور اس طرح سے خدا تعالیٰ کے اصل منشا سے دور جاپڑتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اگرچہ بعض اشیاء جائز تو کردی ہیں، مگر اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ عمر ہی اس میں بسر کی جاوے۔خدا تعالیٰ تو اپنے بندوں کی صفت میں فرماتا ہے يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِيَامًا(الفرقان: ۶۵) کہ وہ اپنے ربّ کے لیے تمام تمام رات سجدہ اور قیام میں گذارتے ہیں۔اب دیکھو رات دن بیویوں میں غرق رہنے والا خدا کے منشا کے موافق رات کیسے عبادت میں کاٹ سکتا ہے۔وہ بیویاں کیا کرتا ہے گویا خدا کے لیے شریک پیدا کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں اور باوجود ان کے پھر بھی آپ ساری ساری رات خدا کی عبادت میں گذارتے تھے۔ایک رات آپؐکی باری عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی۔کچھ حصّہ رات کا گذر گیا تو عائشہؓ کی آنکھ کھلی دیکھا کہ آپ موجود نہیں۔اسے شبہ ہوا کہ شاید آپ کسی اور بیوی کےہاں گئے ہوں گے اس نے اٹھ کر ہر ایک کے گھر میں تلاش کیا مگر آپؐنہ ملے۔آخر دیکھا کہ آپؐقبرستان میں ہیں اور سجدہ میں رو رہے ہیں۔اب دیکھو کہ آپؐ زندہ اور چاہتی بیوی کو چھوڑ کر مُردوں کی جگہ قبرستان میں گئے اور روتے رہے تو کیا آپؐکی بیویاں حظِّ نفس یا اتباعِ شہوت کی بنا پر ہو سکتی ہیں؟ غرض کہ خوب یاد رکھو کہ خدا کا اصل منشا یہ ہے کہ تم پر شہوات غالب نہ آویں اور تقویٰ کی تکمیل کے لیے اگر ضرورتِ حقّہ پیش آوے تو اور بیوی کر لو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمتع دنیاوی کا یہ حال تھا کہ ایک بار حضرت عمرؓ آپؐسے ملنے گئے۔ایک لڑکا بھیج کر اجازت چاہی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔جب حضرت عمرؓ اندر آئے تو آپؐاٹھ کر بیٹھ گئے۔حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ مکان سب خالی پڑا ہے اور کوئی زینت کا سامان اس میں نہیں ہے۔ایک کھونٹی پر تلوار لٹک