ملفوظات (جلد 6) — Page 204
مل جاتی ہے۔دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والا ہی مبارک ہے لیکن جو دنیا کو دین پر مقدم رکھتا ہے وہ ایک مُردار کی طرح ہے جو کبھی سچی نصرت کا منہ نہیں دیکھتا۔یہ بیعت اس وقت کام آسکتی ہے جب دین کو مقدم کرلیا جاوے اور اس میں ترقی کرنے کی کوشش ہو۔بیعت ایک بیج ہے جو آج بویا گیا۔اب اگر کوئی کسان صرف زمین میں تخم ریزی پر ہی قناعت کرے اور پھل حاصل کرنے کے جو جو فرائض ہیں ان میں سے کوئی ادا نہ کرے۔نہ زمین کو درست کرے اور نہ آبپاشی کرے اور نہ موقع بہ موقع مناسب کھاد زمین میں ڈالے نہ کافی حفاظت کرے تو کیا وہ کسان کسی پھل کی امید کر سکتا ہے ہرگز نہیں۔اس کا کھیت بالضرور تباہ اور خراب ہوگا۔کھیت اسی کا رہے گا جو پورا زمیندار بنے گا۔سو ایک طرح کی تخم ریزی آپ نے بھی آج کی ہے۔خدا جانتا ہے کہ کس کے مقدر میں کیا ہے لیکن خوش قسمت وہ ہے جو اس تخم کو محفوظ رکھے اور اپنے طور پر ترقی کے لیے دعا کرتا رہے۔مثلاً نمازوں میں ایک قسم کی تبدیلی ہونی چاہیے۔نماز میں حضور اور لذّت پیدا کرنے کا طریق میں دیکھتا ہوں کہ آج کل لوگ جس طرح نماز پڑھتے ہیں وہ محض ٹکریں مارنا ہے۔ان کی نماز میں اس قدر بھی رقّت اور لذّت نہیں ہوتی جس قدر نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا میں ظاہر کرتے ہیں۔کاش یہ لوگ اپنی دعائیں نماز میںہی کرتے۔شاید ان کی نمازوں میں حضور اور لذّت پیدا ہوجاتا۔اس لیے میں حکماً آپ کو کہتا ہوں کہ سرِ دست آپ بالکل نماز کے بعد دعا نہ کریں اور وہ لذّت اور حضور جو دعا کے لیے رکھا ہے، دعاؤں کو نماز میں کرنے سے پیدا کریں۔میرا مطلب یہ نہیں کہ نماز کے بعد دعا کرنی منع ہے۔لیکن میں چاہتا ہوں کہ جب تک نماز میں کافی لذّت اور حضور پیدا نہ ہو نماز کے بعد دعا کرنے میں نماز کی لذّت کو مت گنواؤ۔ہاں جب یہ حضور پیدا ہوجاوے تو کوئی حرج نہیں۔سو بہتر ہے نماز میں دعائیں اپنی زبان میں مانگو۔جو طبعی جوش کسی کی مادری زبان میں ہوتا ہے وہ ہرگز غیر زبان میں پیدا نہیں ہوسکتا۔سو نمازوں میں قرآن اور ماثورہ دعاؤں کے بعد اپنی ضرورتوں کو برنگِ دعا اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے آگے پیش کرو تاکہ آہستہ آہستہ تم کو