ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 159 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 159

جاوے اور انہیں ناکافی سمجھا جاوے تو توجہ کے لیے جوش پیدا نہیں ہوتا اور ظہورِ نشان کے لیے ضروری ہے کہ اس میں توجہ کی جاوے اور اقبال اِلَی اللہ کے لیے جوش ڈالا جاوے اور یہ تحریک اس وقت ہوتی ہے جب ایک صادق اور مخلص طلب گار ہو۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نشان عقلمندوں کے لیے ہوتے ہیں ان لوگوں کے و اسطے نشان نہیں ہوتے جو عقل سے کوئی حصّہ نہیں رکھتے ہیں۔ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے نشانات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ہدایت محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے اگر اللہ تعالیٰ کی توفیق شاملِ حال نہ ہو اور وہ فضل نہ کرے تو خواہ کوئی ہزاروں ہزار نشان دیکھے ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور کچھ نہیں کرسکتا۔پس جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ نشانات گذشتہ سے اس نے کیا فائدہ اٹھایا ہے ہم آ ئندہ کے لیے کیا امید رکھیں۔نشانات کا ظاہر ہونا یہ ہمارے اختیار میں تو نہیں ہے اور نشانات کوئی شعبدہ باز کی چابکد ستی کا نتیجہ تو نہیں ہوتے۔یہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور مرضی پر مو قوف ہے وہ جب چاہتا ہے نشان ظاہر کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہے۔اس وقت جوسوال نشان نمائی کا کیا جاتا ہے اس کے متعلق میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہی ڈالا ہے کہ یہ اقتراح اسی قسم کا ہے جیسا ابو جہل اور اس کے امثال کیا کرتے تھے انہوں نے کیا فائدہ اٹھایا؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر نشان صادر نہیں ہوئے تھے۔اگر کوئی ایسا اعتقاد کرے تو وہ کافر ہے۔آپؐکے ہاتھ پر لا انتہا نشان ظاہر ہوئے مگر ابوجہل وغیرہ نے ان سے کچھ فائدہ نہ اُٹھایا۔اسی طرح پر یہاں نشان ظاہر ہو رہے ہیں جو طالبِ حق کے لیے ہر طرح کافی ہیں۔لیکن اگر کوئی فائدہ نہ اٹھانا چاہے اور ان کو ردّی میں ڈالا جائے اور آئندہ خواہش کرے اس سے کیا امید ہوسکتی ہے؟ وہ خدا تعالیٰ کے نشانات کی بے حرمتی کرتا ہے اور خود اللہ تعالیٰ سے ہنسی کرتا ہے۔طریقِ ادب طریقِ ادب تو یہ ہے کہ پہلے کتابوں کو دیکھا جاتا اور دیانتداری اور خدا ترسی سے ان میں غور کیا جاتا وہ نشانات جو ان میں درج کئے گئے ہیں ان پر فکر کی جاتی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص سلیم دل لے کر میری کتابوں کو پڑھے گا اور ان نشانوں پر