ملفوظات (جلد 6) — Page 8
میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دیکھتا ہوں تو آپ سے بڑھ کر کوئی خوش قسمت اور قابلِ فخر ثابت نہیں ہوتا۔کیونکہ جو کامیابی آپ کو حاصل ہوئی وہ کسی اور کو نہیں ملی۔آپ ایسے زمانہ میں آئے کہ دنیاکی حالت مسخ ہو چکی تھی اور وہ مجذوم کی طرح بگڑی ہوئی تھی اور آپ اس وقت رخصت ہوئے جب آپ نے لاکھوں انسانوں کو ایک خدا کے حضور جھکا دیا اور توحید پر قائم کردیا۔آپ کی قوتِ قدسی کی تاثیر کا مقابلہ کسی نبی کی قوتِ قدسی نہیں کرسکتی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسی حالت میں منقطع ہوئے کہ وہ حواری جو بڑی محنت سے طیار کئے تھے جن کو رات دن ان کی صحبت میں رہنے کا موقع ملتا تھا وہ بھی پورے طور پر مخلص اور وفادار ثابت نہ ہوئے اور خود حضرت مسیحؑ کو ان کے ایمان اور اخلاص پر شک ہی رہا یہاں تک کہ وہ آخری وقت جو مصیبت اور مشکلات کا وقت تھا وہ حواری ان کو چھوڑ کر چلے گئے۔ایک نے گرفتار کرا دیا اور دوسرے نے سامنے کھڑے ہو کرتین مرتبہ لعنت کی۔اس سے بڑھ کر ناکامی اور کیا ہو گی۔حضرت موسٰی جیسے اولوالعزم نبی بھی راستہ ہی میں فوت ہو گئے اور وہ ارضِ مقدس کی کامیابی نہ دیکھ سکے اور ان کے بعد ان کا خلیفہ اور جانشین اس کا فاتح ہوا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی قابلِ فخر کامیابی کا نمونہ ہے اور وہ کامیابی ایسی عظیم الشان ہے جس کی نظیر کہیں نہیں مل سکتی۔آپ جس بات کو چاہتے تھے جب تک اس کو پورا نہ کر لیا آپ رخصت نہیں ہوئے۔آپ کی روحانیت کا تعلق سب سے زیادہ خدا تعالیٰ سے تھا اور آپ اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم کرنا چاہتے تھے۔چنانچہ کون اس سے ناواقف ہے کہ اس سر زمین میں جو بتوں سے بھری ہوئی تھی۔ہمیشہ کے لیے بُت پرستی دور ہو کر ایک خدا کی پرستش قائم ہو گئی۔آپ کی نبوت کے سارے ہی پہلو اس قدر روشن ہیں کہ کچھ بیان نہیں ہوسکتا۔آپ ایک خطرناک تاریکی کے وقت دنیا میں آئے اور اس وقت گئے جب اس تاریکی سے دنیا کو روشن کردیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور آپ کی قُدسی قوت کے کمالات کا یہ بھی ایک اثر اور نمونہ ہے کہ وہ کمالات ہر زمانہ میں اور ہر وقت تازہ بہ تازہ نظر آتے ہیں اور کبھی وہ قصّہ یا کہانی کا