ملفوظات (جلد 6) — Page 7
سوچو اور مکہ کے اس انقلاب کو دیکھو کہ جہاں بُت پرستی کا اس قدر چرچا تھا کہ ہر ایک گھر میں بُت رکھا ہوا تھا۔آپ کی زندگی ہی میں سارا مکہ مسلمان ہو گیا اور ان بتوں کے پجاریوں ہی نے ان کو توڑا اور ان کی مذمت کی۔یہ حیرت انگیز کامیابی، یہ عظیم الشان انقلاب کسی نبی کی زندگی میں نظر نہیں آتا جو ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے کرکے دکھا یا۔یہ کامیابی آپ کی اعلیٰ درجہ کی قوتِ قدسی اور اللہ تعالیٰ سے شدید تعلقات کا نتیجہ تھا۔ایک وقت وہ تھا کہ آپ مکہ کی گلیوں میں تنہا پھرا کرتے تھے اور کوئی آپ کی بات نہ سنتا تھا۔اور پھر ایک وقت وہ تھا کہ جب آپ کے انقطاع کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یاد دلایا اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ وَرَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا (النصـر:۲،۳) آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ فوج در فوج لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔جب یہ آیت اُتری تو آپ نے فرمایا کہ اس سے وفات کی بُو آتی ہے کیونکہ وہ کام جو میں چاہتا تھا وہ تو ہو گیا اور اصل قاعدہ یہی ہے کہ انبیاء علیہم السلام اسی وقت تک دنیا میں رہتے ہیں جب تک وہ کام جس کے لیے وہ بھیجے جاتے ہیں نہ ہو لے۔جب وہ کام ہو چکتا ہے تو ان کی رحلت کا زمانہ آ جاتا ہے جیسے بندوبست والوں کا جب کام ختم ہو جاتا ہے تو وہ اس ضلع سے رخصت ہو جاتے ہیں۔اسی طرح پر جب آیت شریفہ اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ (المآئدۃ:۴) نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جن پر بڑھاپے کے آثار ظاہر ہونے لگے تھے اس آیت کو سن کر رونے لگے۔صحابہؓ میں سے ایک نے کہا کہ اے بڈھےـ! تجھے کس چیز نے رُلایا۔آج تو مومنوں کے لیے بڑی خوشی کا دن ہے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تو نہیں جانتا اس آیت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی بُو آتی ہے۔۱ دنیا میں اسی طرح پر قاعدہ ہے کہ جب مثلاً محکمہ بندوبست ایک جگہ کام کرتا ہے اور وہ کام ختم ہو جاتا ہے تو پھر وہ عملہ وہاں نہیں رہتا ہے۔اسی طرح انبیاء و رسل علیہم الصلوٰۃ والسلام دنیا میں آتے ہیں۔ان کے آنے کی ایک غرض ہوتی ہے اور جب وہ پوری ہو جاتی ہے پھر وہ رخصت ہو جاتے ہیں لیکن