ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 127

کوئی نہیں بنتا تب تک وہ پیتل اورتانبا ہے اور اس قابل نہیں کہ اس کا قدر کیا جاوے۔سچوں کی مخالفت یادرکھو خدا کے بندوں کا انجام کبھی بد نہیں ہوا کرتا اس کا وعدہ كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِيْ (المجادلۃ:۲۲) بالکل سچا ہے اور یہ اسی وقت پورا ہوتا ہے جب لوگ اس کے رسولوں کی مخالفت کریں فریبی مکّاروں سے دنیا مخالفت نہیں کیا کرتی کیونکہ دنیا دنیا سے مل جاتی ہے لیکن جسے خدا بر گز یدہ کرے اس کی مخالفت ہونی ضروری ہے سچے کے بعد ایک بڑے طو فان کے بعد لوگ ملا کرتے ہیں اور عقلمندلوگ جان جاتے ہیں کہ اگر یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا تو اتنی مخالفت پر کیسے کامیاب ہوتا یہ سب امور مخالفت وغیرہ خدا کی طرف سے ہوتے ہیں اور اس میں وہ اپنے بندے کا صبر دیکھتا ہے اور دکھلا تا ہے کہ دیکھو جن کو میں انتخاب کرتا ہوں وہ کیسے بہادر ہیں کیونکہ جھوٹے کے لیے پانچ چھ دشمن ہی کافی ہوتے ہیں لیکن ان کے مقابلہ پر ایک دنیا دشمن ہوتی ہے اور پھر یہ غالب آتے ہیں۔ایک جھوٹا تحصیلدار اگر ایک گاؤں میں جاوے اور ایک ادنیٰ سا آدمی بھی یہ کہہ دے کہ مجھے اس کی تحصیلداری میں شک ہے تو آخر کار وہ اسی دن وہاں سے کھسک جاوے گا کہ میرا پول کھل گیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں چور ہوں جھوٹے کی استقامت کچھ نہیں ہوتی لیکن خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی استقامت کا فوق الکرامت نمونہ دکھاتا ہے اور اسے دیکھ دیکھ کر لوگ تنگ آجاتے ہیں اور آخر کار بول اٹھتے ہیں کہ یہ سچوں کی استقامت ہے۔سچائی پر اگر ہزار گردوغبار ڈالا جاوے پھر بھی وہ باہر نکل کر اپنا جلوہ دکھائے گی۔نصائح فتنہ کی بات نہ کرو، شر نہ کرو، گالی پر صبر کرو، کسی کا مقابلہ نہ کرو، جو مقابلہ کرے اس سے سلوک اور نیکی سے پیش آؤ، شیریں بیا نی کا عمدہ نمونہ دکھلاؤ، سچے دل سے ہر ایک حکم کی اطاعت کرو کہ خدا راضی ہو اور دشمن بھی جان لیوے کہ اب بیعت کرکے یہ شخص وہ نہیں رہا جو کہ پہلے تھا مقدمات میں سچی گواہی دو، اس سلسلہ میں داخل ہونے والے کو چاہیے کہ پورے دل، پوری ہمّت اور ساری جان سے راستی کا پا بندہو جاوے۔دنیا ختم ہونے پر آئی ہوئی ہے۔اس کے بعد آپ نے کسوف خسوف اور طاعون کا ذکر کیا ہےکہ ایک آسمانی نشان ہے اور ایک