ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 126

آخر ابو بکرؓ اٹھ کر پیغمبر ِخدا صلی اللہ علیہ وسلم کو پنکھا جھلنے لگ گئے اور اپنے قول سے نہیں بلکہ فعل سے بتلا دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہیں میں تو خادم ہوں۔جب انسان خدا کی بندگی کرتا ہے تو اسے رنگ دار کپڑے پہننے، ایک خاص وضع بنانے اور مالا وغیرہ لٹکا کر چلنے کی کیا ضرورت ہے ایسے لوگ دنیا کے کتّے ہوتے ہیں خدا کے طالبوں کو اتنی ہوش کہاں کہ وہ خاص اہتمام پوشاک اور وردی کا کریں۔وہ تو خلقت کی نظروں سے پوشیدہ رہنا چاہتے ہیں۔بعض بعض کو خدا تعالیٰ اپنی مصلحت سے باہر کھینچ لاتا ہے (کہ اپنی الوہیت کا ثبوت دیوے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز خواہش نہ تھی کہ لوگ آپ کو پیغمبر کہیں اور آپ کی اطاعت کریں اور اسی لیے ایک غار میں جو قبرسے زیادہ تنگ تھی جا کر آپ عبادت کیا کرتے تھے اور آپ کا ہرگز ارادہ نہ تھا کہ اس سے باہر آویں آخر خدا نے اپنی مصلحت سے آپ کو خود باہر نکالا اور آپ کے ذریعے سے دنیا پر اپنے نور کو ظاہر کیا۔انبیاء۔تلا میذ الرحمٰن انبیاء تلامیذ الرحمٰن ہوتے ہیں ان کا کوئی مرشد وغیرہ نہیں ہوتا وہ دنیا سے بالکل فانی ہوتے ہیں وہ ہرگز اپنا اظہار نہیں چاہتے مگر خدا ان کو زبردستی باہر لاتا ہے۔انسان کیا وہ تو فرشتوں سے بھی اخفا چاہتے ہیں اور ان کی فطرت ہی اس قسم کی بنی ہوئی ہوتی ہے وہ خدا کے نزدیک زندہ ہوتے ہیں لیکن جن کو دنیا کا خیال ہوتا ہے اور چاہتے ہیں کہ لوگ ان کو اچھا جانیں وہ خدا کے نزدیک مُردار ہوتے ہیں اور ہزاروں قسم کی تصنّعا ت سے ان کو کام لینا پڑتا ہے۔وہ شیطان ہوتے ہیں ان سے دور رہنا چاہیے۔وہ لوگ جن کو دیکھ کر خدا یاد آتا ہے وہ اَور ہیں نہ کہ یہ۔پس یادرکھو کہ زبان سے خدا کبھی راضی نہیں ہوتا اور بغیر ایک موت کے کوئی اس کے نزدیک زندہ نہیں ہوتا جس قدر اہل اللہ ہوتے ہیں سب ایک موت قبول کرتے ہیں اور جب خدا ان کو قبول کرتا ہے تو زمین پر بھی ان کی قبولیت ہوتی ہے پہلے خدا تعالیٰ خاص فرشتوں کو اطلاع دیتا ہے کہ فلاں بندے سے میں محبت کرتا ہوں اور وہ سب اس سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں حتی کہ اس کی محبت زمین کے پاک دلوںمیں ڈالی جاتی ہے اور وہ اسے قبول کرتے ہیں۔جب تک ان لوگوں میں سے