ملفوظات (جلد 6) — Page 118
فضل اور فیضان حاصل کرنے کا طریق خدا تعالیٰ کے فضل اور فیضان کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو کچھ کرکے دکھا ؤ ورنہ نکمّی شَے کی طرح تم پھینک دئیے جاؤ گے کوئی آدمی اپنے گھر کی اچھی چیزوں اور سونے چاندی کو باہر نہیں پھینک دیتا بلکہ ان اشیاء کو اور تمام کار آمد اور قیمتی چیزوں کو سنبھا ل سنبھال کر رکھتے ہو لیکن اگر گھرمیں کوئی چوہا مَرا ہوا دکھا ئی دے تو اس کو سب سے پہلے باہر پھینک دوگے۔اسی طرح پر خدا تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو ہمیشہ عزیز رکھتا ہے ان کی عمر دراز کرتا ہے اور ان کے کاروبار میں ایک برکت رکھ دیتا ہے وہ ان کو ضائع نہیں کرتا اور بے عزّتی کی موت نہیں مارتا لیکن جو خدا تعالیٰ کی ہدایتوں کی بے حرمتی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو تباہ کر دیتا ہے۔اگر چاہتے ہو کہ خدا تعالیٰ تمہاری قدر کرے تو اس کے واسطے ضروری ہے کہ تم نیک بن جاؤ تا خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل قدر ٹھہرو جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے حکموں کی پابندی کرتے ہیں وہ ان میں اور ان کے غیروں کے درمیان ایک فر قان رکھ دیتا ہے۔یہی راز انسان کی برکت پا نے کا ہے کہ وہ بدیوں سے بچتا رہے ایسا شخص جہاں رہے وہ قابلِ قدر ہوتا ہے کیونکہ اس سے نیکی پہنچتی ہے وہ غریبوں سے سلوک کرتا ہے، ہمسایوں پر رحم کرتا ہے شرارت نہیں کرتا، جھوٹے مقدمات نہیں بناتا، جھوٹی گو اہیاں نہیں دیتا بلکہ دل کو پاک کرتا ہے اور خدا کی طرف مشغول ہوتا ہے اور خدا کا ولی کہلاتا ہے۔اخلاقی کمزوریوں کو دور کریں خدا کا ولی بننا آسان نہیں بلکہ بہت مشکل ہے کیو نکہ اس کے لیے بدیوں کا چھوڑنا، بُرے ارادوں اور جذبات کو چھوڑنا ضروری ہے اور یہ بہت مشکل کام ہے۔اخلاقی کمزوریوں اور بدیوں کو چھوڑنا بعض اوقات بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے ایک خونی خون کرنا چھوڑ سکتا ہے، چور چوری کرنی چھوڑ سکتا ہے لیکن ایک بداخلاق کو غصّہ چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے یا تکبّر والے کو تکبّر چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں دوسروں کو جو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے پھر خود اپنے آپ کو حقیر سمجھتا ہے لیکن یہ سچ ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی عظمت کے لیے اپنے آپ کو چھوٹا بنا دے گا خدا تعالیٰ اس کو خود بڑا بنا دے گا یہ یقیناً یادرکھو کہ کوئی بڑانہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ آپ کو چھوٹا نہ بنائے۔یہ ایک ذریعہ ہے جس سے انسان کے دل پر ایک نور نازل ہوتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف کھینچا جاتا ہے جس قدر اولیاء اللہ دنیا میں گذرے ہیں اور آج لاکھوں انسان جن کی قدر و منزلت کرتے ہیں انہوں نے اپنے آپ کو ایک چیونٹی سے بھی کمتر سمجھا جس پر خدا تعالیٰ کا فضل ان کے شاملِ حال ہوا اور ان کو وہ مدارج عطا کئے جس کے وہ مستحق تھے۔تکبّر، بخل، غرور وغیرہ بداخلاقیاں بھی اپنے اندر شرک کا ایک حصّہ رکھتی ہیں اس لیے ان بداخلاقیوں کا مرتکب خدا تعالیٰ کے فضلوں سے حصّہ نہیں لیتا بلکہ وہ محروم ہو جاتا ہے بر خلاف اس کے غربت وانکسار کرنے والا خدا تعالیٰ کے رحم کا مورد بنتا ہے۔۱ الحکم جلد ۸نمبر۱۱مورخہ۳۱؍مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ۳،۵ ۲نوٹ از مرتّب۔الحکم کے اس پرچہ کے بعض صفحات پر تاریخ غلط در ج ہے۔۳۱؍ مارچ کی بجائے ۱۷؍مارچ لکھا ہے اور ٹائٹل پیج پر بھی ایسا ہی ہے اور نیز نمبر ۱۱ کی بجائے نمبر ۹ لکھا ہے۔