ملفوظات (جلد 6) — Page 105
لوگوں کے زُمرہ میں جو منقطعین ہیں داخل ہو کر یہ وہ انعاماتِ الٰہی حاصل کرے گا جیسی عادت اللہ ان سے جاری ہے۔یہ کبھی کسی نے نہیں سنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک راست باز متقی کو رزق کی ماردے بلکہ وہ تو سات پشت تک بھی رحم کرتا ہے قرآن شریف میں خضروموسیٰ کا قصّہ درج ہے کہ انہوں نے ایک خزانہ نکالا۔اس کی بابت کہا گیا کہ اَبُوْهُمَا صَالِحًا(الکھف:۸۳)اس آیت میں ان کے والدین کا ذکر تو ہے لیکن یہ ذکر نہیں کہ وہ لڑکے خود کیسے تھے باپ کے طفیل سے اس خزانہ کو محفوظ رکھا تھا اور اس لیے ان پر رحم کیا گیا لڑکوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ ستاری سے کام لیا۔توریت اور ساری آسمانی کتابوں سے پایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ متقی کو ضائع نہیں کرتا اس لیے پہلے ایسی دعائیں کرنی چاہئیں جن سے نفسِ امّارہ نفسِ مطمئنّہ ہو جاوے۔اور اللہ تعالیٰ راضی ہو جاوے۔پس اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ (الفاتـحۃ:۶) کی دعائیں مانگو کیونکہ اس کے قبول ہونے پر جو یہ خود مانگتا ہے خدا تعالیٰ خود دیتا ہے۔سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ جب انسان سچی توبہ کرتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ یہ دیتا ہے۔یہ دیتا ہے آخر کہتے ہیں کہ بیوی بھی دیتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب واقعات وہ اپنے بیان کرتے ہیں اور یہ ہے بالکل سچ کہ خدا تعالیٰ خود متعہدہو جاتا ہے اس کے موافق میرا بھی ایک الہام ہے۔ہر چہ باید نو عروسی را ہماں ساماں کنم غرض۱ جب متولّی اور متکفّل خدا ہو تو پھر کیا ہی مزاآتا ہے۔۲ استفسارات اور ان کے جوابات سوال اوّل۔یا شیخ عبدالقادر جیلانی شَیْئًا لِلّٰہِ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ جواب۔ہرگز نہیں یہ توحید کے برخلاف ہے۔سوال ۲۔جبکہ غائب اور حاضر دونوں کو خطاب کر لیتے ہیں پھر اس میں کیا حرج ہے؟