ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 104

بڑا خطرناک ہے اس کا مزا اسی دنیا میں چکھنا پڑتا ہے۔گناہ دو طرح پر ہوتے ہیں۔ایک گناہ غفلت سے ہوتے ہیں جو شباب میں ہو جاتے ہیں۳ دوسرے بیداری کے وقت میں ہوتے ہیں جب انسان پختہ عمر کا ہو جاتا ہے ایسے وقت میں جب گناہوں سے راضی نہیں ہوگا اور ہر وقت استغاثہ کرتا رہے گا تواللہ تعالیٰ اس پر سکینت نازل کرے گا اور گناہوں سے بچا لے گا۔گناہوں سے پاک ہونے کے واسطے بھی اللہ تعالیٰ ہی کا فضل درکار ہے جب اللہ تعالیٰ اس کے رجوع اور توبہ کو دیکھتا ہے تو اس کے دل میں غیب سے ایک بات پڑجاتی ہے اور وہ گناہ سے نفرت کرنے لگتا ہے اور اس حالت کے پیدا ہونے کے لیے حقیقی مجاہدہ کی ضرورت ہے۔وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا(العنکبوت:۷۰) جو مانگتا ہے اس کو ضرور دیا جاتا ہے اسی لیے میں کہتا ہوں کہ دعا جیسی کوئی چیز نہیں۔دنیا میں دیکھو کہ بعض خرگداایسے ہوتے ہیں کہ وہ ہر روز شورڈالتے رہتے ہیں ان کو آخر کچھ نہ کچھ دینا ہی پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ تو قادر اور کریم ہے جب یہ اَڑ کر دعا کرتا ہے تو پالیتا ہے کیا خدا انسان جیسا بھی نہیں؟ قبولیتِ دعا کا راز یہ قاعدہ یادرکھو کہ جب دعا سے باز نہیں آتا اور اس میں لگا رہتا ہے تو آخر دعا قبول ہوجاتی ہے مگر یہ بھی یاد رہے کہ باقی ہر قسم کی دعائیں طفیلی ہیں اصل دعائیں اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے واسطے کرنی چاہئیں باقی دعائیں خود بخود قبول ہو جائیں گی کیونکہ گناہ کے دور ہونے سے برکات آتی ہیں یوں دعاقبول نہیں ہوتی جو نری دنیا ہی کے واسطے ہو۔۱ اس لیے پہلے خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے واسطے دعائیں کرے اور وہ سب سے بڑھ کر دعا اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ(الفاتـحۃ:۶)۲ ہے جب یہ دعا کرتا رہے گا تو وہ مُنْعَمْ عَلَیْہِمْ کی جماعت میں داخل ہوگا جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی محبت کے دریا میں غرق کر دیا ہے ان لوگوں ۱ البدر سے۔’’ غرضیکہ خدا اس کا کفیل مثل ماں باپ کے ہو جاتا ہے اور جب خدا متولّی اور کفیل ہو تو کس قدر مزے کی بات ہے۔‘‘ (البدر جلد۳نمبر۱۱ مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۵) ۲ الحکم جلد۸نمبر۸ مورخہ ۱۰ ؍مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۵تا۷