ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 59

فرمایا کہ مشابہت میں ضروری نہیں کہ مشبّہ اور مشبَّہ بہٖ بالکل آپس میں ایک دوسرے کے عین ہوں اور ان کا ذرا بھی آپس میں خلاف نہ ہو۔اب ہم جو کہتے ہیں کہ فلاں شخص تو شیر ہے۔تو اب اس میں کیا بھلا ضروری ہے کہ اس شخص کے جسم پر لمبے لمبے بال بھی ہوں۔چار پائوں بھی ہوں اور دُم بھی ہو اور وہ جنگلوں میں شکار بھی کرتا پھرے؟ بلکہ جس طرح مِنْ وَجْہٍ تشابہ ہوتا ہے ویسا ہی مِنْ وَجْہٍ مخالف بھی ہونا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ تو ہمیں ہی فرمایا ہے۔جو اعلیٰ درجہ کی خیر اور برکات تھے وہ اسی امت میں جمع ہوئے ہیں۔آنحضرتؐکا زمانہ ایسے وقت تک پہنچ گیا ہوا تھا کہ دماغی اور عقلی قویٰ پہلے کی نسبت بہت کچھ ترقی کر گئے تھے۔اس زمانے میں تو ایک گونہ جہالت تھی۔اب کوئی کہے کہ اس طرح بھی تشابہ نہ ہوا تو یہ اس کا کہنا درست نہ ہوگا۔نبوت جو اللہ تعالیٰ نے اب قرآن شریف میں آنحضرتؐکے بعد حرام کی ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اب اس امت کو کوئی خیر و برکت ملے ہی گی نہیں اور نہ اس کو شرفِ مکالمات اور مخاطبات ہوگا۔بلکہ اس سے مُراد یہ ہے کہ آنحضرتؐکی مُہر کے سوائے اب کوئی نبوت نہیں چل سکے گی۔اس امت کے لوگوں پر جو نبی کا لفظ نہیں بولا گیا اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ حضرت موسٰی کے بعد تو نبوت ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ ابھی آنحضرتؐجیسے عالی جناب، اولوالعزم صاحبِ شریعت کامل آنے والے تھے۔اسی وجہ سے ان کے واسطے یہ لفظ جاری رکھا گیا۔مگر آنحضرتؐکے بعد چونکہ ہر ایک قسم کی نبوت بجز آنحضرتؐکی اجازت کے بند ہوچکی تھی اس واسطے ضروری تھا کہ اس کی عظمت کی وجہ سے وہ لفظ نہ بولا جاتا۔مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ (الاحزاب:۴۱) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جسمانی طور سے آپؐکی اولاد کی نفی بھی کی ہے اور ساتھ ہی روحانی طور سے اثبات بھی کیاہے کہ روحانی طور سے آپ باپ بھی ہیں اور رُوحانی نبوت اور فیض کا سلسلہ آپ کے بعد جاری رہے گا اور وہ آپ میں سے ہو کر جاری ہوگا نہ الگ طور سے۔وہ نبوت چل سکے گی جس پر آپ کی مُہر ہوگی۔ورنہ اگر نبوت کادروازہ بالکل بند سمجھا جاوے تو نعوذ باللہ اس سے تو انقطاعِ فیض لازم آتا ہے اور اس میں تو نحوست ہے اور نبیؐ کی ہتک شان ہوتی ہے۔گویا اللہ تعالیٰ نے اس اُمّت کو یہ جو کہا کہ كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ یہ جھوٹ تھا نعوذباللہ۔اگر یہ معنے کیے جاویں کہ آئندہ کے واسطے نبوت کا دروازہ ہر طرح سے بند ہے تو پھر خیر الامۃ کی بجائے شرالامم ہوئی یہ اُمت۔جب اس کو اللہ تعالیٰ سے مکالمات اورمخاطبات کا شرف بھی نصیب نہ ہوا تو یہ تو كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ ہوئی اور بہائم سیرت اسے کہنا چاہیے نہ کہ خیر الامم۔اور پھر سورۃ فاتحہ کی دعا بھی لغو جاتی ہے۔اس میں جو لکھایا ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ(الفاتـحۃ:۶،۷) تو سمجھنا چاہیے کہ ان پہلوں کے پلائو زردے مانگنے کی دعا سکھائی ہے اور ان کی جسمانی لذّات اور انعامات کے مورث ہونے کی خواہش کی گئی ہے؟ ہرگز نہیں اور اگر یہی معنے ہیں تو باقی رہ ہی کیا گیا جس سے اسلام کا علو ثابت ہووے۔اس طرح تو ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ آنحضرتؐکی قوتِ قدسی کچھ بھی نہ تھی اور آپ حضرت موسٰی سے مرتبے میں گِرے ہوئے تھے کہ ان کے بعد تو ان کی اُمّت میں سے سینکڑوں نبی آئے مگر آپ کی اُمّت سے خدا کو نفرت ہے کہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ مکالمہ بھی نہ کیا کیونکہ جس کے ساتھ محبت ہوتی ہے آخر اس سے کلام تو کیاہی جاتا ہے۔نہیں بلکہ آنحضرتؐکی نبوت کا سلسلہ جاری ہے مگر آپ میں سے ہوکر اور آپ کی مہر سے اور فیضان کا سلسلہ جاری ہے کہ ہزاروں اس اُمّت میں سے مکالمات اور مخاطبات کے شرف سے مشرف ہوئے اور انبیاء کے خصائص ان میں موجود ہوتے رہے ہیں۔سینکڑوں بڑے بڑے بزرگ گزرے ہیں جنہوں نے ایسے دعوے کئے۔چنانچہ حضرت عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ہی کی ایک کتاب فتوح الغیب کو ہی دیکھ لو۔ورنہ اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے کہ مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى (بنی اسـرآءیل:۷۳) اگر خدا نے خود ہی اس اُمّت کو اَعْمٰى بنایا تھا تو عجب ہے خود ہی اسے اَعْمٰى بنایا اور خود ہی اَعْمٰى کے واسطے زجر اور توبیخ ہے کہ آخر ت میں بھی اَعْمٰى ہوگی۔اس اُمّت بیچاری کے کیا اختیار۔اس کی مثال تو ایسی ہے کہ ایک شخص کسی کو کہے کہ اگر تو اس مکان سے گر جاوے گا تو تجھے قید کر دیا جاوے گا مگر پھر اسے خود ہی دھکا دے دے۔گویا نبوت کا سلسلہ بند کرکے فرمایا کہ تجھے مکالمات اورمخاطبات سے بے بہرہ کیا گیا اور توبہائم کی طرح زندگی بسر کرنے کے واسطے بنائی گئی اور دوسری طرف کہتا ہے کہ مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى (بنی اسـرآءیل:۷۳) اب بتائو کہ اس متناقض کا کیا جواب ہے؟ ایک طرف تو کہا کہ خیراُمّت اور دوسری جگہ کہہ دیا کہ تو اَعْمٰى ہے آخرت میں بھی اَعْمٰى ہوگی۔نعوذ باللہ۔کیسے غلط عقیدے بنائے گئے ہیں۔