ملفوظات (جلد 5) — Page 46
ہوں بالکل اُٹھ گئی مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہر صدی اس اَمر کی منتظر ہوتی ہے کہ اس اُمّت میں سے چند افراد یا کوئی ایک فرد ضرور خدا کی ہمکلامی سے مشرف ہوں گے اسلام پر سے گردو غبار کو دور کرکے پھر اسلام کے روشن چہرے کو چمکا کر دکھایا کریں ان لوگوں سے اگر پوچھا جاوے کہ تمہارے پاس سچائی کی دلیل ہی کون سی ہے؟ کوئی معجزات یا خارق عادت تمہارے پاس نہیں تو دوسروں کا حوالہ دے دیں گے خود خالی اور محروم ہیں۔صحابہؓ آنحضرت کے پاس رہ کر اور آپ کی صحبت کی برکت سے آنحضرتؐکے ہی رنگ میں رنگین ہوگئے تھے اور ان کے ایمانوں کے واسطے آنحضرتؐکی پیشگوئیاں اور معجزات کثرت سے دیکھنے اور ہروقت مشاہدہ کرنے سے ان کے ایمانوں کا تزکیہ اور تربیت ہوتی گئی اور آخر کار ترقی کرتے کرتے وہ کمالِ تمام تک پہنچ کر آنحضرت کے رنگ میں رنگین ہوگئے مگر ان لوگوں کے ایمانوں کو مضبوط کرنے کے واسطے اگر ان سے پوچھا جاوے تو کیا ہے؟تیرہ ۱۳۰۰سوبرس کا حوالہ دیں گے کہ اس وقت یہ معجزات اور خارق عادت ظاہر ہوا کرتے تھے پیشگوئیاں بھی تھیں مگر اَب کچھ بھی نہیں۔خیرِ اُمم مَیں نہیں سمجھتا کہ اگر خدا تعالیٰ نے اسے شرّالامم بنانا تھا تو اُس کانام قرآن شریف میں خَيْرَ اُمَّةٍ کر کے کیوں پکارا؟کیونکہ اس کی موجودہ حالت بقول مولویوں کے بد ترین معلوم ہوتی ہے۔اندرونی بیرونی حملوں سے پاش پاش ہوا جاتا ہے۔دجّال نے آکر ہر طرف سے گھیر لیا ہے اور پھر ایسے مصیبت کے وقت میں خدا نے اگر خبر گیری بھی کی تو ایک اَور دجّال بھیج دیا جو دین کا حامی ہونے کی بجائے بیخ کُن ہے اور ان کے لوگ ہزار مجاہدے اور ریاضت زہد و تعبد کریں مگر خدا سے مکالمے کا شرف کبھی انہیں نصیب نہیں اور ایسے گئے گذرے ہیں کہ دوسری امتوں کی عورتوں سے بھی درماندہ اور پس پا افتادہ ہیں۔ان میں تو ایک موسوی شریعت کے خادم ہزاروں نبی آتے اور ایک ایک زمانے میں چار چار سو نبی بھی ہوتے رہے مگر اس اُمّت میں آنحضرتؐکی شریعت کا خادم ایک بھی صاحبِ الہام نہ آیا۔گویا کہ سارے کا سارا باغ ہی بے ثمر رہ گیا۔پہلے لوگوں کے باغ تو مثمر ہوئے مگر ان کے اعتقاد کے بموجب نعوذ باللہ آپؐکا باغ بھی بے برگ و بار ہوا۔اگر ان لوگوں