ملفوظات (جلد 5) — Page 45
تعجب آتا ہے کہ ان لوگوں کو کیا ہوگیا۔یہی تو ایک چیز تھی جو نہایت نازک اور روح کی غذا تھی۔جو انسان اس کے حصول کا پیاسا نہیں۔ممکن نہیں کہ اس کے اندر پاک تبدیلی آسکے اور جب تک انسان اس طرح خدا کا چہرہ نہ دیکھے اور اس کی سریلی آواز سے بہرہ ورنہ ہو۔تب تک ممکن نہیں کہ گناہ کی زہر سے بچ سکے۔خیر خود تو محروم اور بے نصیب تھے ہی مگر دوسروں کو جو اس قسم کے خیال رکھیں کہ خدا کسی سے ہمکلام ہوسکتا ہے کافر جانتے ہیں۔وہ تو دوسروں کو کافر کہتے ہیں۔مگر ہمیں خود ان کے ایمان کا خطرہ ہے کہ ان کا ایمان ہی کیا ہے جو اس نصیحتِ عظمیٰ سے محروم ہیں اور خدا کے حضور وہ دعا کے واسطے ہاتھ ہی کس طرح اُٹھا سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ تک پہنچانے کے ذرائع دو ہی چیزیں ہیں کہ جو خدا تک انسان کو پہنچا سکتی ہیں۔دیدار جس کی موسیٰ نے بھی درخواست کی تھی اور وہ بھی الہام ہی کی وجہ سے تھی۔کیونکہ جب انسان اس کی طرف ترقی پاتا ہے تو اَور اَور مدارج کی بھی اس کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ ترقی کرنا چاہتا ہے۔دوسری چیز خدا تک پہنچنے کی گفتار ہے اور یہ فضل خدا کا تو ایسا ہوا ہے کہ عورتوں تک بھی گفتار سے مشرف ہوتی رہی ہیں۔حضرت موسیٰ کی ماں کو بھی ہمکلامی کا شرف حاصل تھا۔حضرت عیسیٰ کے حواریوں کو بھی یہ نعمت ملی ہوئی تھی۔خضرؑ کو بھی الہام ہوتا تھا تو کیا اسلام ہی ایسا گیا گذرا تھا اور خدا کی نظر میں گِرا ہوا تھا کہ اسے بنی اسرائیل کی عورتوں سے بھی پیچھے پھینک دیا؟ ان وہابیوں کا تو یہ اعتقاد ہے کہ آنحضرتؐکے بعد نہ صحابہ ؓ میں سے کسی کواور نہ بعد میں آئمہ میں سے کسی کو اَور نہ ہی بڑے بڑے خدا کے ولیوں مثلاًحضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ وغیرہ ان میں سے کسی کو بھی الہام نہیں ہوا۔اور یہ سارے کے سارے ہی خشک مُلاّں تھے ان میں سے کسی کو بھی خدا کے مکالمے مخاطبے کا شرف نہ ملا ہوا تھا۔ان کے ہاتھ میں بھی صرف قصّے کہانیاں ہی تھیں۔لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ (الاحزاب:۴۱) کے معنے ہی ان کے نزدیک یہی ہیں کہ الہام کا دروازہ آپؐکے بعد ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔۔۔۔اور آپ کے بعد آپ کی اُمّت سے یہ برکت کہ کسی کو مکالمات اور مخاطبات