ملفوظات (جلد 5) — Page 311
باتوں سے انسان تباہ ہو جاتا ہے پوچھا جاوے تو لوگ کہتے ہیں کہ برادری کے بغیر گذارہ نہیں ہوسکتا۔ایک حرام خور کہتا ہے کہ بغیر حرام خوری کے گذارہ نہیں ہوسکتا۔جب ہر ایک حرام گذارہ کے لیے انہوں نے حلال کر لیا تو پوچھو کہ خدا کیا رہا؟ اور تم نے خدا کے واسطے کیا کیا؟ ان سب باتوں کو چھوڑنا موت ہے جو بیعت کرکے اس موت کو اختیار نہیں کرتا تو پھر یہ شکایت نہ کرے کہ مجھے بیعت سے فائدہ نہیں ہوا۔جب ایک انسان ایک طبیب کے پاس جاتا ہے تو جو پرہیز وہ بتلاتا ہے اگر اسے نہیں کرتا تو کب شفا پا سکتا ہے، لیکن اگر وہ کرے گا تو یوماً فیوماً ترقی کرے گا یہی اصول یہاں بھی ہے۔جنّت کی حقیقت کوئی بات سوائے خدا کے فضل کے حاصل نہیں ہوسکتی اور جسے اس دنیا میں فضل ہوگا اسے ہی آخرت میں بھی ہوگا جیسے کہ خدا تعالیٰ فر ماتا ہے مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى(بنی اسـرآءیل:۷۳) اسی لیے یہ ضروری ہے کہ ان حواس کے حصول کی کوشش اسی جہان میں کرنی چاہیے کہ جس سے انسان کو بہشتی زندگی حاصل ہوتی ہے اور وہ حواس بلا تقویٰ کے نہیں مل سکتے۔ان آنکھوں سے انسان خدا کو نہیں دیکھ سکتا، لیکن تقویٰ کی آنکھوں سے انسان خدا کو دیکھ سکتا ہے۔اگر وہ تقویٰ اختیار کرے گا تووہ محسوس کرے گا کہ خدا مجھے نظر آرہاہے اور ایک دن آوے گا کہ خود کہہ اُٹھے گا کہ میں نے خدا کو دیکھ لیا اسی بہشتی زندگی کی تفصیل جو کہ متقی کو اسی دنیا میں حاصل ہوتی ہے قرآن شریف میں ایک اورجگہ بھی پائی جاتی ہے جیسے لکھا ہے كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِيْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ(البقرۃ:۲۶) جب وہ عالم آخرت میں ان درختوں کے ان پھلوں سے جو دنیا کی زندگی میں ہی ان کو مل چکے تھے پائیں گے تو کہہ دیویں گے کہ یہ تو وہ پھل ہیں جو کہ ہمیں اوّل ہی دئیے گئے تھے کیونکہ وہ ان پھلوں کو ان پہلے پھلوں سے مشابہ پاویں گے۔اس سے یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ دنیا میں جو نعمتیں مثل دودھ، شہد، گھی اور انار اور انگور وغیرہ انہوں نے کھائی ہیں وہی ان کو وہاں جنّت میں ملیں گے اور وہاں ان چیزوں کے مہیّا کرنے کے لیے بہت سے باغات، درخت، مالی اور بیل وغیرہ اور گائے بھینسوں کے ریوڑ ہوں گے اور درختوں پر شہد کی مکھیوں کے چھتے ہوں گے جن سے شہد اُتا ر کر اہل جنّت کو دیا