ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 249

فرمایا کہ ان کا اثرہو نا تو ایک دعویٰ بلا دلیل ہے۔اس قسم کے علاج تصورات کے مدّ میں آجاتے ہیں کیونکہ تصورات کو انسان پر اثر اندازی میں بڑا اثر ہے۔اس سے ایک کو ہنسا دیتے ہیں ایک کو رُلادیتے ہیں اور کئی چیزیں جوکہ واقعی طور پر موجود نہ ہوں دوسروں کو دکھلادیتے ہیں اور بعض امراض کا علاج ہوتا ہے۔اکثر اوقات تعویذوں سے فائدہ بھی نہیں ہوتاتو آخر تعویذ دینے والے کو کہنا پڑتا ہے کہ اب میری پیش نہیں چلتی۔اُمّت ِمرحومہ یہ اُمّت ِمرحومہ اس واسطے بھی کہلاتی ہے کہ ان ٹھوکروں سے بچ جاوے جو کہ اس سے پہلی اُمتوں کو پیش آئی ہیں۔۱ ۱۱ ؍اگست ۱۹۰۳ء (دربارِ شام ) جان الیگز ینڈر ڈوئی مسٹر ڈوئی مدعی الیاس جس کو حضرت اقدس نے مقابلہ پر بُلایا ہے اب کثرت سے اس کا چر چا امریکہ اور انگلستان کی اخباروں میں اس مقابلہ پر ہو رہا ہے اور ہندوستان سے باہر کل عیسائی دنیا نے اس مقابلہ کو مذاہب کی سچائی کا حقیقی معیار قرار دیا ہے حتی کہ دہریہ منش انسان جوکہ ان ممالک میں رہتے ہیں ان کے ایمان کے لیے بھی اس مقابلہ دعا نے ایک راہ کھول دی ہے اور جس عدل اور انصاف پر یہ مقابلہ حضرت اقدس نے مبنی رکھا ہے اس کی شہادت خود یورپ اور امریکہ نے ان الفاظ میں دی ہے کہ اس مقابلہ میں مرزا صاحب نے کوئی پہلو رعایت کا اپنے لیے نہیں رکھا کہ جس سے ڈوئی کو انکار کرنے کی گنجائش ہو۔آج کل وہی اخباریں پڑھی جاتی ہیں ان اخباروں کو سن کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام نے فرمایا کہ یہ ہمارا مقابلہ صرف مسٹر ڈوئی ہی سے نہیں ہے بلکہ تمام عیسائیوں کے مقابلہ پر ہے اور یہ بھی ایک طریق ہے جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کسرِ صلیب کرے گا۔حدیثوں میں آیا ہے کہ آنے والے مسیح ۱البدرجلد ۲ نمبر ۳۱ مورخہ ۱ ۲؍اگست۱۹۰۳ء صفحہ۲۴۲