ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 248

فرمایا کہ انسان کے اندر جو نور اور شعاع اعلائے کلمۃ الاسلام کا ہوتا ہے وہ انسان کو اپنی طرف کھینچتا رہتا ہے۔۹ ؍اگست۱۹۰۳ء (دربارِ شام) حقوق العباد بیمار پُرسی اور کسی میّت کی تجہیز وتکفین کی نسبت ذکر ہوا۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ہماری جماعت کو اس بات کا بہت خیال چاہیے کہ اگر ایک شخص فوت ہو جاوے تو حتی الوسع سب جماعت کو اس کے جنازہ میں شامل ہونا چاہیے اور ہمسایہ کی ہمدردی کرنی چاہیے۔یہ تمام باتیں حقوق العباد میں داخل ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ جس تعلیم اور درجہ تک خدا تعالیٰ پہنچانا چاہتا ہے اس میں ابھی بہت کمزوری ہے صرف دعویٰ ہی دعویٰ نہ ہونا چاہیے کہ ہم ایمان دار ہیں بلکہ اس ایمان کو طلب کرنا چاہیے جسے خدا چاہتا ہے۔بھائیوں کے حقوق اور ہمسایوں کے حقوق کو شناخت کرناکوئی آسان کام نہیں ہے۔زبان سے کہہ لیناکہ ہم جانتے ہیں بے شک آسان ہے مگر سچی ہمدردی اور اخوت کو برت کر دکھلانا مشکل ہے۔اصل بات یہ ہے کہ تمام حرکات، اعمال و افعال کے لیے ایمان مثل ایک انجن کے ہے۔جب ایمان ہوتا ہے تو سب حقوق خود بخود نظر آتے جاتے ہیں اور بڑے بڑے اعمال اور ہمدردی خودہی انسان کرنے لگتا ہے۔ایمان کا تخم آہستہ آہستہ ترقی کرتا ہے لیکن یہ ہر ایک کے نصیب میں نہیں ہوتا۔۱ ۱۰؍اگست ۱۹۰۳ء (دربارِ شام ) گنڈے اور تعویذ کی تاثیرات شام کے وقت ایک صاحب نے گنڈے، تعویذات کی تاثیرات کی نسبت استفسار کیا حضرت اقدس نے ۱البدرجلد ۲ نمبر ۳۱ مورخہ ۱ ۲؍اگست۱۹۰۳ءصفحہ۲۴۲