ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 218 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 218

۲۱؍جولائی ۱۹۰۳ء ایک استفسار اور اس کا جواب ایک شخص نے سوال کیا کہ ریلی بردرس وغیرہ کارخانوں میں سرکاری سیر ۸۰ روپیہ کا دیتے ہیں اور لیتے ۸۱روپےکا ہیں۔کیا یہ جائز ہے؟ فرمایا۔جن معاملات بیع وشرا میں مقدمات نہ ہوں۔فساد نہ ہوں۔تراضی فریقین ہو اور سر کار نے بھی جرم نہ رکھاہو۔عرف میں جائز ہو۔وہ جائز ہے۔ہدایت کے مختلف ذرائع مامور جب دنیا میں اصلاح اور اشاعت ہدایت کے لیے آتے ہیں تو وہ ہر طرح سے سمجھاتے ہیں۔آخری علاج اور راہ سختی بھی ہے۔دنیا میں بھی یہی طریق جاری ہے کہ ابتداءً واوّلاً نرمی کے ساتھ سمجھایا جاتا ہے۔پھر اس کی خوبیاں اور مفاد بتا کر شوق دلایا جاتا ہے۔آخر جب کسی طرح نہیں مانتے تو سختی ہوتی ہے۔جیسے ماں ایک وقت بچہ کو مار سے ڈراتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس قدر طریق عقل تبلیغ اور ہدایت کی تجویز کرسکتی ہے اختیار کئے یعنی اوّل ہر قسم کی نرمی سے،رفق،صبر اور اخلاق سے،عقلی دلائل اور معجزات سے کام لیا اور آخر الامر جب ان لوگوں کی شرارتیں اور سختیاں حدسے گذر گئیں تو اللہ تعالیٰ نے پھر اسی رنگ میں ان پرحجّت پوری کی اور سختی سے کام لیا۔یہی حال اب ہو رہا ہے۔خدا تعالیٰ نے دلائل سے سمجھایا۔نشانات دکھائے اور آخراب طاعون کے ذریعہ متوجہ کررہا ہے اور ایک جماعت کو اس طرف لا رہا ہے۔فرمایا۔سورہ فاتحہ میں جواللہ تعالیٰ کی صفات اربعہ بیان ہوئی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان چاروں صفات کے مظہر کامل تھے۔مثلاً پہلی صفت رب العالمین ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بھی مظہر ہوئے۔جبکہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ (الانبیآء:۱۰۸) جیسے رب العالمین عام ربوبیت کو چاہتا تھا۔اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض وبرکات